آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز کے غیر معمولی منافع پر تحقیقات کی درخواست، لاہور ہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے

CBN 247:

اہور: لاہور ہائی کورٹ نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور ریفائنریز کے غیر معمولی منافع کی تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عوام نے مہنگے داموں پٹرول خریدا جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز نے ریکارڈ منافع حاصل کیا۔ درخواست کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کا منافع 149 فیصد، اٹک پیٹرولیم لمیٹڈ (اے پی ایل) کا 92 فیصد بڑھا، جبکہ پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل) کا منافع 29 کروڑ 30 لاکھ روپے سے بڑھ کر 25 ارب 49 کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جو 8,600 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔ اسی طرح نیشنل ریفائنری لمیٹڈ (این آر ایل) خسارے سے نکل کر 7 ارب 30 کروڑ روپے کے منافع میں آ گئی۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت کو پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کی مد میں تقریباً 1.7 ٹریلین روپے آمدن متوقع ہے، جبکہ مہنگائی کا اصل بوجھ عوام نے برداشت کیا۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ تمام متعلقہ کمپنیوں کا آڈٹ ریکارڈ طلب کیا جائے، غیر معمولی منافع کی عدالتی نگرانی میں تحقیقات کرائی جائیں، عوام کو ریلیف دیے بغیر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں مزید اضافے سے روکا جائے، اور برطانیہ، یورپ اور بھارت کی طرز پر ونڈ فال پرافٹ ریگولیشن نافذ کیا جائے۔

لاہور ہائی کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ کیس کی آئندہ سماعت پر عدالت درخواست میں اٹھائے گئے نکات کا جائزہ لے گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے