ریاض حسین
پاکستان میں حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مہنگائی کی ایک نئی لہر اور سخت مالیاتی پالیسی کے لیے تیار ہو رہا ہے، جہاں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) پر مبنی مہنگائی آئندہ مہینوں میں 15 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے۔
یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا ہے جب حکومت کو بھاری سبسڈیز برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا تھا، جس کے نتیجے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 میں سی پی آئی مہنگائی سالانہ بنیادوں پر 7.3 فیصد تک پہنچ گئی، جو فروری میں 7 فیصد اور گزشتہ سال مارچ میں 0.7 فیصد تھی۔
ہفتہ وار بنیادوں پر حساس قیمتوں کے اشاریے (SPI) میں بھی 2 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 1.01 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کی بڑی وجہ ایل پی جی (LPG) کی قیمتوں میں 13.28 فیصد اضافہ اور انڈوں و مرغی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا
ماہرینِ معیشت کے مطابق مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ عدنان خان نے سی بی این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپریل میں مہنگائی 13 سے 14 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جبکہ مئی اور جون میں یہ 15 فیصد سے بھی تجاوز کر جائے گی۔
انہوں نے پیشگوئی کی کہ آئندہ مانیٹری پالیسی میں مرکزی بینک شرح سود میں 1 سے 2 فیصد اضافہ کر سکتا ہے تاکہ بڑھتی مہنگائی پر قابو پایا جا سکے۔
گزشتہ ماہ مرکزی بینک نے عالمی توانائی قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی کشیدگی کے پیش نظر اپنی بنیادی شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھی تھی۔
دوسری جانب کرنسی پر بھی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے، اور اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ روپے کی قدر میں 5 سے 7 فیصد کمی ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں جون تک ڈالر کی قیمت تقریباً 290 روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
ادھر توانائی کے شعبے میں صورتحال غیر یقینی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ قطر سے آر ایل این جی کی ممکنہ کمی اور ترسیلی نظام کی رکاوٹوں کے باعث بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور خاص طور پر گرمیوں کے دوران لوڈشیڈنگ بڑھ سکتی ہے۔
حکومت نے حال ہی میں ایک بڑے فیصلے کے تحت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 43 فیصد اور 55 فیصد اضافہ کیا۔ تاہم، ایک دن بعد وزیراعظم شہباز شریف نے عارضی ریلیف دیتے ہوئے ایک ماہ کے لیے پیٹرول پر پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا۔
اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے ایس پی آئی کے اعداد و شمار ملے جلے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دال ماش، گوشت، تازہ دودھ، دہی اور بیف کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا
اس کے برعکس ٹماٹر، لہسن، آلو، پیاز، آٹا، کیلے، سرسوں کا تیل، لکڑی اور چینی کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔51 اشیاء میں سے 15 کی قیمتوں میں اضافہ، 9 میں کمی جبکہ 27 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
سالانہ بنیادوں پر ایس پی آئی مہنگائی 9.12 فیصد بڑھی، جس کی بڑی وجوہات میں ایل پی جی، ڈیزل، گیس چارجز، پیٹرول اور آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔ پیاز، مرچ پاؤڈر، مٹن، بیف، خشک دودھ اور چاول کی قیمتوں نے بھی مہنگائی میں حصہ ڈالا۔تاہم کچھ اشیاء جیسے آلو، چنا دال، مرغی، نمک، چینی، مسور دال، لہسن اور انڈوں کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر کمی بھی دیکھنے میں آئی۔
ماہرین کے مطابق ایندھن کی بڑھتی قیمتیں ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں، جس سے مہنگائی کا دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ہے اور یہ صورتحال عوام اور پالیسی سازوں کے لیے مسلسل چیلنج بنی رہے گی۔