پانی کا معیار اور آلودگی: خیبر پختونخوا میں بحران سنگین

پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، مگر پاکستان میں خصوصاً خیبر پختونخوا میں پینے اور آبپاشی کے پانی کی کوالٹی
خطرناک حد تک خراب ہو چکی ہے۔ صاف پانی کا حصول بڑے شہروں سے لے کر دیہات تک ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ اس تحقیقی رپورٹ میں پشاور سمیت خیبر پختونخوا اور ملک بھر میں پانی کے معیار کا تکنیکی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔


موجودہ صورتحال

  • پشاور کے بڑے اسپتال، تعلیمی ادارے اور صنعتیں (ماربل فیکٹریاں وغیرہ) اپنا گندہ اخراج براہِ راست ندی نالوں اور کابل دریا میں پھینک رہی ہیں۔
  • حیات آباد سمیت کئی رہائشی ٹاؤن شپس کا سیوریج آبپاشی کی نہروں اور دریاؤں میں شامل ہو رہا ہے۔
  • ماربل فیکٹریوں کے کیمیکلز اور کیلشیم سے بھرپور فضلے نے زمین کی زرخیزی اور فصلوں کے معیار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
  • یہ آلودہ پانی عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

تحقیقی و سائنسی ڈیٹا

PCRWR رپورٹ – خیبر پختونخوا

  • 70 فیصد سے زائد پانی کے نمونے Coliform بیکٹیریا سے آلودہ۔
  • Turbidity، TDS، Fluoride اور Arsenic کی سطحیں WHO اور Pak-EPA کی حدود سے تجاوز کر گئیں۔
    (ماخذ: pcrwr.gov.pk)

پشاور شہر

  • بیشتر پینے کے پانی کے نمونوں میں Coliform بیکٹیریا موجود۔
  • نتیجہ: پیٹ کے امراض، ہیضہ اور ڈائریا میں اضافہ۔
    (ماخذ: PMC Article)

کابل دریا

  • ڈرینز کے اخراج کا BOD اور COD قومی ماحولیاتی معیارات سے زیادہ۔
  • ماہی پروری اور زرعی نظام براہِ راست متاثر۔
    (ماخذ: PCRWR Report)

ضلع شانگلہ

  • Turbidity: WHO معیار سے کئی گنا زیادہ۔
  • TDS: 600–1200 mg/L (WHO معیار: 500 mg/L)۔
  • Coliform: ہر نمونے میں موجود۔
  • نتیجہ: معدے کی بیماریاں عام۔
    (ماخذ: ResearchGate Study)

بنو – ڈومیل علاقہ

  • Bezan، Bara Chashmi اور دیگر دیہات کے زیرِ زمین پانی میں بیکٹیریا کی بڑی مقدار پائی گئی۔
    (ماخذ: Jgnahs Study)

قومی سطح پر صورتحال

  • PCRWR کے مطابق پاکستان کے 24 بڑے شہروں کے سروے میں 72–85 فیصد پینے کا پانی ناقص پایا گیا۔
  • کراچی، لاہور، کوئٹہ، ملتان اور فیصل آباد میں Coliform اور کیمیائی آلودگی شدید۔
  • پرانی اور لیکج والی پائپ لائنیں اور غیر محفوظ ذرائع آلودگی میں اضافے کا باعث ہیں۔

سفارشات

  • ہر ٹاؤن شپ اور ہاؤسنگ سوسائٹی میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لازمی قرار دیا جائے۔
  • ماربل اور دیگر فیکٹریوں کے اخراج پر سخت پابندی اور ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب کی جائے۔
  • سیوریج سسٹم کو اپ گریڈ کیا جائے تاکہ گندا پانی دریاؤں اور نہروں میں شامل نہ ہو۔
  • حکومت سالانہ پانی کے معیار پر رپورٹ شائع کرے۔
  • عوامی سطح پر فلٹر پلانٹس اور صاف پانی کے منصوبے بڑھائے جائیں۔
  • آلودگی پھیلانے والے اداروں، فیکٹریوں اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

خیبر پختونخوا سمیت پورے پاکستان میں پانی کی آلودگی ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ مسئلہ صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ براہِ راست صحت، زراعت اور معیشت سے جڑا ہوا ہے۔ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کے لیے صاف پانی کا حصول ایک ناممکن خواب بن جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے