انجینئر عبدالولی خان یوسفزئی
جنوبی ایشیا میں پانی اب صرف قدرتی وسیلہ نہیں رہا بلکہ یہ جغرافیائی اثر و رسوخ، ترقی اور سفارتی دباؤ کا
طاقتور ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دریا — خصوصاً دریائے کابل — مستقبل میں ایک بڑے اسٹریٹیجک تنازع کا مرکز بننے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
بھارت کی مالی معاونت سے افغانستان میں زیرِ تعمیر شاتوت ڈیم اسی وسیع تر تناظر کا حصہ ہے، جسے ماہرین "واٹر ڈپلومیسی” یا "جیو اسٹریٹیجک پریشر” کا نیا ہتھیار قرار دے رہے ہیں۔
دریائے کابل کی جغرافیائی اہمیت
دریائے کابل ہندوکش کے پہاڑی سلسلے سے نکلتا ہے، کابل شہر سے گزرتا ہوا لغمان اور ننگرہار کے راستے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ یہ دریا خیبر پختونخوا کے کئی اہم زرعی و آبی منصوبوں — جیسے ورسک ڈیم، نوشہرہ بیراج اور پشاور و خیبر کے زیرِ زمین آبی ذخائر — کو پانی فراہم کرتا ہے۔
اس کے اہم معاون دریاؤں میں پنجشیر، لوگَر، الینگار اور کنڑ شامل ہیں۔ ان میں سے دریائے کنڑ سب سے طاقتور معاون دریا ہے جو چترال کے پانیوں سے بھی جڑتا ہے۔
افغانستان کے ڈیم منصوبے — خطرہ یا ترقی؟
افغانستان نے دریائے کابل پر کئی موجودہ اور مجوزہ ڈیم منصوبے شروع کیے ہیں، جن میں نغلو، سروبی، ماہپر، درونٹا، شاتوت، پنجشیر اور بغرام ڈیم شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ تمام منصوبے مکمل ہو گئے تو افغانستان مشرقی پانیوں کا تقریباً 35 فیصد ذخیرہ کر سکے گا — جس سے پاکستان کے لیے پانی کا بہاؤ نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔
بھارت کا کردار — سافٹ پاور یا دباؤ کی پالیسی؟
بھارت افغانستان میں ڈیموں کی تعمیر میں تکنیکی اور مالی مدد فراہم کر رہا ہے۔ بظاہر یہ منصوبے ترقیاتی نوعیت کے ہیں، مگر ان کے اثرات پاکستان کی زرعی، شہری اور ماحولیاتی ضروریات پر گہرے ہو سکتے ہیں۔
چونکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ابھی تک کوئی واٹر ٹریٹی، شیئرڈ ڈیٹا سسٹم یا بین الاقوامی مانیٹرنگ میکانزم موجود نہیں، اس لیے بھارت کو اس صورتحال میں سفارتی فائدہ حاصل ہے۔
پاکستان کے لیے ممکنہ اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر افغانستان نے دریائے کابل کے پانی کو کنٹرولڈ فلو میں تبدیل کیا، تو پاکستان کو درج ذیل نقصانات ہو سکتے ہیں:
- پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ کے دو لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی رقبے کو خطرہ
- زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی اور ٹیوب ویل کے اخراجات میں اضافہ
- ورسک ڈیم کی بجلی پیداوار میں کمی
- ماحولیاتی توازن بگڑنے اور درجہ حرارت میں اضافے کا خدشہ
- خوراک کی پیداوار میں نمایاں کمی، بالخصوص گندم، مکئی اور سبزیوں کی
تجزیہ: پانی کو سفارتی ہتھیار نہ بننے دیا جائے
فریڈم نیٹ ورک کے تجزیاتی مبصرین اور علاقائی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے افغانستان میں ڈیم سازی کو ترقیاتی تعاون کے بجائے ایک اسٹریٹیجک پریشر ٹول کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف افغانستان و پاکستان کے تعلقات متاثر ہوں گے بلکہ پورے خطے میں پانی پر سفارتی تنازعہ جنم لے سکتا ہے۔
پالیسی ماہرین کی تجاویز — "کابل ریور ٹریٹی” ناگزیر
تجزیہ کاروں نے دونوں ممالک کے درمیان ایک باضابطہ "کابل ریور ٹریٹی” کے قیام کی تجویز دی ہے، جس میں درج ذیل نکات شامل ہوں:
- پانی کے بہاؤ اور ذخائر پر مشترکہ ڈیٹا شیئرنگ سسٹم
- سیلاب اور خشک سالی کے لیے مشترکہ مانیٹرنگ اسٹیشنز
- ورلڈ بینک یا اقوام متحدہ کی ثالثی میں باہمی معاہدہ
- بھارت کا کردار صرف تکنیکی سطح تک محدود رکھا جائے