ماحولیاتی تحقیق میں پاکستان کی پیش رفت — خیبر پختونخوا کیوں پیچھے رہ گیا؟

احمد الیاس


عالمی سطح پر ماحولیاتی تحقیق میں پاکستان کا حصہ اگرچہ محدود ہے، تاہم اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستانی
جامعات اور محققین اس شعبے میں بتدریج نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے ماحولیات سے متعلق 5,157 تحقیقی مقالے شائع کیے، جو عالمی تحقیقی پیداوار کا 0.87 فیصد بنتے ہیں۔

عالمی سطح پر تحقیق میں نمایاں ممالک

اعداد و شمار کے مطابق امریکہ 166,146 مقالوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، چین 91,643 مقالوں کے ساتھ دوسرے اور برطانیہ 63,467 مقالوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔ دیگر نمایاں ممالک میں جرمنی (49,154)، آسٹریلیا (38,894)، کینیڈا (36,631)، فرانس (29,413)، اسپین (25,855)، اٹلی (24,870) اور بھارت (23,832) شامل ہیں۔

پاکستان کا عالمی کردار

اگرچہ پاکستان ان ٹاپ دس ممالک میں شامل نہیں، لیکن اس کی موجودگی عالمی تحقیق میں محسوس کی جا سکتی ہے۔پاکستان نے مختلف ممالک کے محققین کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے تحقیقی مقالے شائع کیے، جن میں چین 1,775 مشترکہ مقالوں کے ساتھ سب سے بڑا شراکت دار رہا۔ اس کے بعد سعودی عرب (682) اور امریکہ (519) کا نمبر آتا ہے۔ دیگر شراکت دار ممالک میں ملائیشیا (347)، برطانیہ (329)، جرمنی (321)، آسٹریلیا (312)، ترکی (215)، جنوبی کوریا (199) اور بھارت (189) شامل ہیں۔

قومی جامعات کی کارکردگی

پاکستان کی جامعات میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد 567 مقالوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) نے 343 مقالے شائع کیے، جبکہ پنجاب یونیورسٹی (295) اور ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی (279) بھی نمایاں اداروں میں شامل ہیں۔دیگر نمایاں جامعات میں کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد (269)، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی (252)، اور قائداعظم یونیورسٹی (188) شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا کی جامعات: تحقیق میں سست مگر فعال کردار

خیبر پختونخوا کی جامعات دیگر صوبوں کے مقابلے میں تحقیق کے میدان میں پیچھے نظر آتی ہیں۔تاہم ان اداروں میں تحقیقی سرگرمی مکمل طور پر غیر فعال نہیں۔اعداد و شمار کے مطابق پشاور یونیورسٹی نے ماحولیاتی موضوعات پر 162 مقالے شائع کیے، جبکہ ایگریکلچر یونیورسٹی پشاور نے 161 مقالے پیش کیے۔اسی طرح یونیورسٹی آف ہری پور (118)، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان (97)، ہزارہ یونیورسٹی (68)، سوات یونیورسٹی (60) اور صوابی یونیورسٹی (50) مقالوں کے ساتھ شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا میں آزاد تحقیق

صوبے میں بین الاقوامی تعاون کے بغیر شائع ہونے والے تحقیقی مقالوں کی تعداد بھی قابلِ ذکر ہے۔ایگریکلچر یونیورسٹی پشاور نے 66، پشاور یونیورسٹی نے 47، ہری پور یونیورسٹی نے 26، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان نے 12 جبکہ مالاکنڈ یونیورسٹی اور اسلامیہ کالج پشاور نے 5،5 مقالے شائع کیے۔یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں تحقیقی سرگرمی موجود ہے مگر رفتار سست ہے، جس کی ممکنہ بنیادی وجوہات میں وسائل کی کمی، تحقیقی فنڈنگ کی محدودیت اور بین الاقوامی نیٹ ورکنگ کی کمزوریاں شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا کی تحقیقی صلاحیت: امکانات اور راستے

خیںرپختونخوا کے ریسرچر ڈاکڑ وسیم حسن نے سی بی این سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر خیبر پختونخوا کی جامعات کو تحقیق کے لیے مالی وسائل، تربیت اور عالمی اداروں کے ساتھ روابط فراہم کیے جائیں تو صوبہ قومی تحقیق میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں تحقیقی صلاحیت تو موجود ہے، لیکن اسے عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے واضح پالیسی، ادارہ جاتی حمایت اور بین الاقوامی شراکت داری کی ضرورت ہے۔اگر خیبر پختونخوا جیسے صوبوں میں تحقیقی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائے تو پاکستان ماحولیاتی تحقیق میں ایک عالمی سطح پر مؤثر کردارا ادا کر سکتا ہے

ضروری نوٹ: ماحولیاتی تحقیق میں عالمی پیش رفت کا تجزیہ کرنے کے لیے اسکوپس ڈیٹا بیس سے ڈیٹا حاصل کیا گیا۔ اس تحقیق کے لیے ان تمام مقالوں کا انتخاب کیا گیا جن کے خلاصے میں لفظ ”climate” موجود تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے