دہشتگردی، سیاسی کشیدگی اور لانگ مارچ، خیبرپختونخوا میں کیا ہونے جا رہا ہے؟

پشاور: خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورتحال، دہشتگردی کے واقعات اور وفاق و صوبے کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے باعث آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی یا آرٹیکل 234 کے تحت آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں اقدامات کے امکانات پر بحث تیز ہوگئی ہے۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے 30 ستمبر کو کہا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ سیاسی اختلافات کے بجائے صوبے میں دہشتگردی اور امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں زیرِ غور ہے۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور وفاق کے درمیان سیاسی اختلافات بھی برقرار ہیں۔ پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے لیے 4 اکتوبر کی تاریخ مقرر کر رکھی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مارچ جاری رکھنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔

پی ٹی آئی کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے پارٹی قیادت کو موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر لانگ مارچ مزید مؤخر کرنے کی تجویز بھی دی ہے اور ایمرجنسی کے ممکنہ خطرے کی نشاندہی کی ہے۔

آرٹیکل 232 کیا ہے؟

آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت صدرِ مملکت اس وقت ایمرجنسی نافذ کرسکتے ہیں جب انہیں اطمینان ہو کہ جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی داخلی بدامنی کے باعث پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہے جس پر صوبائی حکومت قابو پانے سے قاصر ہو۔

آئین میں 18ویں ترمیم کے بعد داخلی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد کا تقاضا بھی موجود ہے۔ تاہم اگر صدر اپنے طور پر اعلامیہ جاری کریں تو اسے دونوں ایوانوں کے سامنے مقررہ مدت میں منظوری کے لیے پیش کرنا ہوتا ہے۔

آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ ہونے کی صورت میں پارلیمنٹ کو متعلقہ صوبے سے متعلق بعض معاملات میں قانون سازی کا اختیار حاصل ہوسکتا ہے۔ قومی اسمبلی کی وضاحت کے مطابق صوبے میں ایمرجنسی کی صورت میں پارلیمنٹ کو اس صوبے کے لیے قانون سازی کا اختیار حاصل ہوتا ہے، جس کی آئینی حدود بھی موجود ہیں۔

آرٹیکل 234 کیا ہے؟

آرٹیکل 234 کا تعلق صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی سے ہے۔ اس کے تحت اگر صدرِ مملکت، گورنر کی رپورٹ کی بنیاد پر یہ سمجھیں کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی تو صدر اعلامیہ جاری کرکے صوبائی حکومت کے بعض یا تمام اختیارات خود سنبھال سکتے ہیں یا گورنر کو یہ اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت دے سکتے ہیں۔

یوں بنیادی طور پر آرٹیکل 232 کا تعلق جنگ، بیرونی جارحیت یا قابو سے باہر داخلی بدامنی سے ہے، جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری کے ناکام ہونے کی صورتحال سے متعلق ہے۔

بنیادی حقوق پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

ایمرجنسی کے دوران آئین کا آرٹیکل 233 ریاست کو مخصوص حالات میں بعض بنیادی حقوق سے متعلق اضافی اختیارات دیتا ہے۔ آئینی متن کے مطابق آرٹیکل 15، 16، 17، 18، 19 اور 24 سے متعلق مخصوص قانونی و انتظامی اقدامات ایمرجنسی کے دوران ممکن ہوسکتے ہیں۔

تاہم ایمرجنسی کا نفاذ خود بخود تمام بنیادی حقوق ختم ہونے کے مترادف نہیں ہے۔ آئین میں بنیادی حقوق کے نفاذ سے متعلق الگ طریقہ کار بھی موجود ہے۔

لانگ مارچ اور موجودہ سیاسی صورتحال

خیبرپختونخوا میں آئینی بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی نے اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ 27 ستمبر سے تبدیل کرکے 4 اکتوبر کردی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیا تھا کہ مارچ پشاور سے اسلام آباد روانہ ہوگا۔

تاہم پارٹی کے اندر سے سکیورٹی صورتحال کے باعث مارچ مزید مؤخر کرنے کی آواز بھی سامنے آئی ہے۔ شوکت یوسفزئی نے پارٹی قیادت کو خط کے ذریعے موجودہ حالات میں مارچ کے حوالے سے نظرِثانی کی تجویز دی۔

موجودہ صورتحال میں اصل آئینی سوال

موجودہ بحث میں بنیادی قانونی سوال یہ ہے کہ اگر وفاق کی جانب سے کوئی آئینی اقدام کیا جاتا ہے تو اس کی بنیاد کیا ہوگی۔

اگر بنیاد یہ ہو کہ صوبے میں ایسی داخلی بدامنی موجود ہے جس پر صوبائی حکومت قابو پانے سے قاصر ہے تو آرٹیکل 232 متعلقہ آئینی شق بنتی ہے۔

اس کے برعکس اگر مؤقف یہ ہو کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق چلنے کے قابل نہیں رہی اور آئینی مشینری ناکام ہوگئی ہے تو آرٹیکل 234 کا اطلاق زیرِ بحث آسکتا ہے۔

فی الحال وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کرنے کا کوئی حتمی اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔ البتہ وفاقی وزیر کا آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی پر غور کرنے کا بیان اور صوبے میں جاری سیاسی و سکیورٹی کشیدگی نے آئینی اختیارات سے متعلق بحث کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے