2025 : خیبرپختونخوا دہشت گردی اور سیاسی کشمکش کی زد میں

خیبرپختونخوا میں سال 2025 سیاسی کشیدگی اور دہشت گردی کی تلخ یادیں چھوڑ کر رخصت ہو رہا ہے۔ رواں برس صوبہ ایک جانب شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا تو دوسری جانب دہشت گردی کے خونریز واقعات نے امن و امان کی صورتحال کو بری طرح متاثر کیا۔

سال 2025 کے دوران دہشت گردی کے کئی بڑے واقعات پیش آئے جن میں دارالعلوم حقانیہ اور پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے شامل ہیں۔ دارالعلوم حقانیہ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا حامد الحق حقانی سمیت متعدد افراد شہید ہوئے۔ جنوبی اضلاع اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات مسلسل رونما ہوتے رہے، جب کہ بنوں سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شامل رہا۔

اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں رواں سال آٹھ خودکش حملے ہوئے جبکہ مجموعی طور پر ایک ہزار 588 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ باجوڑ میں اسسٹنٹ کمشنر کی گاڑی پر حملے میں اسسٹنٹ کمشنر سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوئے، جس نے سیکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔

سیاسی میدان بھی 2025 میں گرم رہا۔ صوبائی حکومت مسلسل دباؤ کا شکار رہی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق افواہیں گردش کرتی رہیں۔ یہ سال خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا سال بھی ثابت ہوا، جب بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے علی امین گنڈاپور کو عہدے سے ہٹا کر سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کیا۔

علی امین گنڈاپور نے مستعفی ہونے سے چند روز قبل دو اکتوبر کو صوبائی کابینہ میں ردوبدل کیا، تاہم ان کے استعفے کے بعد نئے وزیراعلیٰ کے حلف کا معاملہ بھی تنازع کا شکار رہا۔ تحریک انصاف کو حلف برداری کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑا، جس کے بعد عدالتی احکامات پر گورنر خیبرپختونخوا نے سہیل آفریدی سے حلف لیا۔

نئے وزیراعلیٰ کو بانی چیئرمین سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کے باعث حکومتی امور میں مشکلات کا سامنا رہا اور کابینہ بھی مشاورت کے بغیر تشکیل دی گئی۔ مجموعی طور پر سال 2025 خیبرپختونخوا کے لیے سیاسی بے یقینی اور بدامنی کی تلخ یادیں چھوڑ گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے