ہر آزاد اور جمہوری معاشرے میں عدالت کو انصاف کی آخری امید سمجھا جاتا ہے، مگر جب اسی ادارے پر سوالات
اٹھنے لگیں تو یہ بحران صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ طارق جانگیری کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے، جو عدالتی شفافیت، شہری حقوق اور انصاف کے بنیادی اصولوں پر سنجیدہ سوالات کھڑا کرتا ہے۔
طارق جانگیری نے قانون کے شعبے میں ایک طویل، شفاف اور آئینی سفر طے کیا۔ وہ وکیل بنے، ڈپٹی پراسیکیوٹر، ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل کے عہدوں پر فائز رہے، حتیٰ کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج بھی مقرر ہوئے۔ ان تمام مراحل میں ان کی ڈگری اور اہلیت کو ریاستی اداروں نے تسلیم کیا اور کبھی کسی سطح پر کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا۔
تحقیق کرنے والے مصنف انجینئر عبدالولی خان یوسفزئی کے مطابق، طارق جانگیری کے تعلیمی سفر پر ذاتی مشاہدہ بھی موجود ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب طارق جانگیری کراچی میں امتحان دے رہے تھے، وہ خود این ای ڈی انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں طالب علم تھے اور اپنی آنکھوں سے انہیں امتحان دیتے دیکھا۔ یہ ایک عینی شہادت ہے جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ان کا تعلیمی اور قانونی سفر شفاف تھا۔
تاہم حیران کن طور پر، جب اسلام آباد کے تین قومی حلقوں کے فارم 45 عدالت میں زیرِ بحث آئے، تو اچانک طارق جانگیری کی ڈگری کو جعلی قرار دینے کا دعویٰ سامنے آیا۔ یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ اگر ڈگری جعلی تھی تو وہ برسوں تک اعلیٰ قانونی مناصب پر کیسے فائز رہے اور ریاستی اداروں نے انہیں کیوں تسلیم کیا؟
مصنف کے مطابق اصل مسئلہ ڈگری نہیں بلکہ وہ سچ ہے جو طارق جانگیری نے حساس انتخابی معاملے، یعنی فارم 45، پر بیان کیا۔ جیسے ہی انہوں نے ریاستی بیانیے سے ہٹ کر شفافیت اور قانون کی بات کی، ان کی ساکھ کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف قانونی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ شہری حقوق پر بھی کاری ضرب ہے۔
یہ واقعہ عدلیہ کی ساکھ اور عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ اگر عدالتوں میں بھی انصاف مشکوک ہو جائے تو عام شہری کے پاس انصاف کے لیے رجوع کرنے کا راستہ کہاں بچتا ہے؟ یہ معاملہ ہر اس شہری کے لیے لمحۂ فکریہ ہے جو سچ بولنے کی جرأت رکھتا ہے۔
نتیجتاً، طارق جانگیری کا کیس صرف ایک فرد کی داستان نہیں بلکہ ایک اجتماعی سوال ہے: کیا سچ بولنا جرم بن چکا ہے؟ اور کیا ایک آزاد معاشرے میں انصاف کی قیمت اتنی بھاری ہو گئی ہے کہ اسے دباؤ اور طاقت کے ذریعے خاموش کرایا جائے؟ یہ سوالات آج ہر باشعور شہری کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔
جب عدالتی سطح پر بھی انصاف مجروح ہو جائے