ہٹلر کو دھوکا دینے والا مردہ جاسوس: آپریشن منس میٹ کی حیران کن داستان

احمد الیاس

تاریخ کے جھروکوں سے

اپریل 1943 کی ایک تاریک رات۔

بحیرۂ روم کی سطح غیر معمولی طور پر پرسکون تھی۔ اسپین کے ساحل سے کچھ فاصلے پر ایک برطانوی آبدوز خاموشی سے پانی چیرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔ آبدوز کے اندر موجود افسران کے چہروں پر سنجیدگی طاری تھی۔ ان کے پاس نہ کوئی نیا ہتھیار تھا، نہ کوئی خفیہ بم اور نہ ہی کوئی ایسا آلہ جو جنگ کا نقشہ بدل سکتا۔

ان کے پاس صرف ایک لاش تھی۔

مگر یہی لاش چند ہفتوں بعد ایڈولف ہٹلر، جرمن انٹیلی جنس اور نازی فوجی قیادت کو ایک ایسی غلطی پر مجبور کرنے والی تھی جس کا اثر دوسری جنگِ عظیم کے نقشے پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو جانا تھا۔

اس وقت وہاں موجود کوئی شخص شاید یہ نہیں جانتا تھا کہ سمندر کے حوالے کیا جانے والا یہ مردہ آدمی بعد میں "The Man Who Never Was” یعنی "وہ آدمی جو کبھی تھا ہی نہیں” کے نام سے تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔


1943 تک جنگ اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔

شمالی افریقہ میں جرمن جنرل ایرون رومیل کی شکست کے بعد اتحادی افواج کو پہلی بڑی کامیابی مل چکی تھی۔ اب لندن، واشنگٹن اور اتحادی فوجی ہیڈکوارٹرز میں ایک ہی سوال زیر بحث تھا:

"یورپ میں داخل ہونے کا دروازہ کہاں سے کھولا جائے؟”

جواب تقریباً سب کے پاس ایک ہی تھا۔

سسلی۔

بحیرۂ روم کا وہ جزیرہ جو اٹلی کے دروازے پر پہرہ دے رہا تھا۔

چرچل جانتا تھا کہ اگر سسلی فتح ہو گئی تو اٹلی کی فاشسٹ حکومت کمزور پڑ جائے گی، مسولینی کا اقتدار ہل جائے گا اور یورپ کے قلب تک پہنچنے کا راستہ کھل جائے گا۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ہٹلر بھی یہی جانتا تھا۔

برلن میں بیٹھا جرمن آمر مہینوں پہلے یہ اندازہ لگا چکا تھا کہ اتحادی افواج کا اگلا ہدف سسلی ہو سکتا ہے۔ جرمن اور اطالوی فوجیں وہاں دفاعی تیاریاں کر رہی تھیں۔ توپیں نصب تھیں، فضائی نگرانی جاری تھی اور ہزاروں فوجی کسی بھی حملے کا انتظار کر رہے تھے۔

لندن میں بیٹھے برطانوی منصوبہ سازوں کو احساس تھا کہ اگر جرمن اسی طرح تیار رہے تو سسلی پر حملہ ہزاروں اتحادی فوجیوں کی جان لے سکتا ہے۔

انہیں ایک معجزے کی ضرورت تھی۔

یا شاید ایک دھوکے کی۔


برطانوی انٹیلی جنس کے دو افسر، ایون مونٹاگو اور چارلس چولمونڈلی، کئی ہفتوں سے ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہے تھے جسے سن کر اکثر لوگ ہنس پڑتے۔

مگر جنگ کے زمانے میں بعض اوقات پاگل پن ہی سب سے عقلمند منصوبہ ثابت ہوتا ہے۔

ایک دن گفتگو کے دوران خیال آیا:

"اگر ہم جرمنوں کو غلط معلومات دیں تو؟”

یہ نئی بات نہیں تھی۔

جاسوسی کی دنیا میں جھوٹ روز بولا جاتا تھا۔

اصل مسئلہ یہ تھا کہ جرمن انٹیلی جنس کو یہ جھوٹ سچ کیسے لگے؟

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

پھر کسی نے کہا:

"اگر یہ راز ایک مردہ آدمی کے ذریعے ان تک پہنچے تو؟”

چند لمحوں کے لیے کمرے میں سکوت طاری ہو گیا۔

لیکن یہی خیال بعد میں تاریخ کا سب سے مشہور جاسوسی آپریشن بن گیا۔


اب ضرورت تھی ایک لاش کی۔

ایسی لاش جس کے بارے میں کوئی سوال نہ پوچھے۔

ایسی لاش جس کے پیچھے کوئی خاندان نہ ہو۔

ایسی لاش جسے ایک نئی شناخت دی جا سکے۔

کئی دنوں کی تلاش کے بعد لندن کے ایک مردہ خانے میں ایک شخص ملا۔

نام تھا گلائنڈر مائیکل۔

ویلز سے تعلق رکھنے والا ایک غریب اور بے گھر شخص۔

اس کی موت چوہے مار زہر کھانے کے بعد ہوئی تھی۔

زندگی میں وہ گمنام رہا۔

موت کے بعد وہ تاریخ کا کردار بننے والا تھا۔


برطانوی انٹیلی جنس نے فیصلہ کیا کہ اب گلائنڈر مائیکل وجود نہیں رکھتا۔

اس کی جگہ ایک نیا شخص پیدا ہوگا۔

میجر ولیم مارٹن۔

رائل میرینز کا افسر۔

اعلیٰ فوجی حلقوں سے وابستہ۔

اہم ذمہ داریوں کا حامل۔

اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا شخص جو خفیہ فوجی دستاویزات لے جا رہا تھا۔

مگر صرف شناختی کارڈ کافی نہیں تھا۔

جرمن اگر تحقیقات کرتے تو ہر چیز جانچتے۔

لہٰذا منصوبہ سازوں نے ایک پوری زندگی تخلیق کی۔

اس کی جیب میں منگیتر کی تصویر رکھی گئی۔

اس کے لیے محبت بھرے خطوط لکھے گئے۔

بینک رسیدیں تیار کی گئیں۔

تھیٹر کے ٹکٹ شامل کیے گئے۔

سگریٹ، چابیاں، ذاتی نوٹس، بل اور روزمرہ زندگی کی بے شمار چھوٹی چیزیں اس کی جیبوں میں رکھ دی گئیں۔

یہ صرف ایک شناخت نہیں تھی۔

یہ ایک مکمل زندگی تھی۔

ایک ایسی زندگی جو حقیقت میں کبھی وجود نہیں رکھتی تھی۔

برطانوی منصوبہ ساز جانتے تھے کہ صرف ایک شناختی کارڈ یا چند کاغذات جرمن انٹیلی جنس کو دھوکا دینے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔

اگر جرمن افسران نے ذرا سا بھی شک کیا تو پورا منصوبہ ناکام ہو سکتا تھا۔

اسی لیے میجر ولیم مارٹن کی زندگی کا ہر پہلو انتہائی باریک بینی سے تخلیق کیا گیا۔

اس کے سرکاری کاغذات تیار کیے گئے، فوجی ریکارڈ مرتب کیا گیا، اور اس کی جیبوں میں روزمرہ زندگی کی وہ تمام چیزیں رکھی گئیں جو ایک حقیقی شخص کے پاس ہو سکتی تھیں۔

یہاں تک کہ اس کی فرضی منگیتر "پام” کی تصویر بھی شامل کی گئی اور اس کی جانب سے محبت بھرے خطوط تحریر کیے گئے تاکہ تفتیش کرنے والے کسی بھی شخص کو اس کردار کے حقیقی ہونے پر شک نہ ہو۔

لیکن اصل اہمیت اُن خفیہ دستاویزات کی تھی جو جرمنوں تک پہنچانی تھیں۔

منصوبہ سازوں نے ان خطوط اور دستاویزات کے متن پر کئی مرتبہ غور کیا۔ ہر لفظ، ہر جملہ اور ہر اشارہ بار بار جانچا گیا تاکہ کہیں کوئی ایسی بات نہ رہ جائے جو جرمن ماہرین کے ذہن میں شک پیدا کر دے۔

حتیٰ کہ کاغذوں کو تہہ کرنے کے انداز تک کا ریکارڈ محفوظ کیا گیا۔ خطوط کو مختلف زاویوں سے دیکھا گیا، تصاویر لی گئیں اور یہ یقین کیا گیا کہ اگر بعد میں کسی نے انہیں کھولا بھی تو ان کی حالت سے اندازہ لگایا جا سکے گا۔

ایک اور اہم سوال یہ تھا کہ لاش کو کہاں چھوڑا جائے؟

بالآخر اسپین کے ساحلوں کا انتخاب کیا گیا۔

اسپین اگرچہ بظاہر غیر جانبدار تھا، مگر وہاں جرمن انٹیلی جنس کا اثر و رسوخ خاصا مضبوط سمجھا جاتا تھا۔ برطانوی منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ اگر لاش اسپین کے حکام کے ہاتھ لگ گئی تو اس کے ساتھ موجود کاغذات کسی نہ کسی راستے جرمنوں تک ضرور پہنچ جائیں گے۔

اب منصوبہ مکمل طور پر تیار تھا۔

صرف ایک مردہ جسم نہیں، بلکہ ایک پوری فرضی زندگی، ایک جعلی شناخت اور ایک ایسا راز سمندر کے سپرد کیا جانے والا تھا جس پر آنے والی جنگوں کی تقدیر کا انحصار تھا۔


اب اصل کھیل شروع ہونا تھا۔

ایک بریف کیس تیار کیا گیا۔

اسے لاش کے ساتھ زنجیر سے باندھا گیا۔

اسی بریف کیس میں وہ دستاویزات موجود تھیں جن کے ذریعے جرمنی کو دھوکا دینا تھا۔

ان کاغذات میں اشارہ دیا گیا تھا کہ اتحادی افواج جلد یونان اور سارڈینیا پر حملہ کرنے والی ہیں۔

سسلی کا ذکر بھی تھا۔

مگر اس انداز میں جیسے وہ صرف ایک دھوکہ ہو۔

حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔

سسلی ہی اصل ہدف تھا۔

اور یونان صرف ایک فریب۔


اپریل 1943۔

برطانوی آبدوز HMS Seraph اسپین کے ساحل کے قریب پہنچی۔

اسپین بظاہر غیر جانبدار تھا۔

لیکن برطانوی جانتے تھے کہ وہاں جرمن جاسوس سرگرم ہیں۔

منصوبہ یہی تھا کہ لاش پہلے اسپین کے ہاتھ لگے اور پھر کسی نہ کسی راستے جرمن انٹیلی جنس تک پہنچ جائے۔

رات کے اندھیرے میں لاش کو فوجی وردی پہنائی گئی، بریف کیس اس کے جسم کے ساتھ مضبوطی سے باندھا گیا اور پھر اسے سمندر کے حوالے کر دیا گیا۔

اب سب کچھ قسمت کے سپرد تھا۔

اگر لاش نہ ملتی؟

ناکامی۔

اگر غلط شخص کے ہاتھ لگتی؟

ناکامی۔

اگر جرمنوں کو شک ہو جاتا؟

ناکامی۔

مہینوں کی محنت چند دنوں کے رحم و کرم پر تھی۔


چند روز بعد اسپین کے شہر ہیولوا کے قریب ایک ماہی گیر نے پانی میں تیرتی لاش دیکھی۔

لاش کے ساتھ بندھا بریف کیس بھی موجود تھا۔

خبر مقامی حکام تک پہنچی۔

پھر انٹیلی جنس اداروں تک۔

اور پھر جرمنوں تک۔

وہی لمحہ آ چکا تھا جس کا لندن میں انتظار کیا جا رہا تھا۔


لندن میں بے چینی بڑھ رہی تھی۔

ہر گھنٹے کے ساتھ سوال بھی بڑھ رہا تھا:

کیا جرمنوں نے کاغذات دیکھ لیے ہوں گے؟

کیا انہوں نے یقین کیا ہوگا؟

یا سب کچھ ضائع ہو چکا ہے؟

دوسری جانب برطانوی خفیہ ادارے اسپین میں مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ مختلف ذرائع سے یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ آیا بریف کیس اور اس میں موجود خفیہ دستاویزات جرمن انٹیلی جنس تک پہنچی ہیں یا نہیں۔

جب لاش اور کاغذات اسپین کے حکام کی تحویل میں گئے تو جرمن خفیہ ادارے بھی متحرک ہو گئے۔ وہ ہر ممکن طریقے سے ان دستاویزات تک رسائی حاصل کرنا چاہتے تھے۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ بظاہر برطانوی حکام بھی انہی کاغذات کی واپسی کے لیے سرگرم دکھائی دے رہے تھے، جس سے ان دستاویزات کی اہمیت مزید بڑھ گئی اور جرمنوں کا تجسس بھی۔

کچھ عرصے بعد جب بریف کیس اور دستاویزات واپس برطانیہ پہنچیں تو ابتدا میں ایسا محسوس ہوا جیسے پورا منصوبہ ناکام ہو گیا ہو۔

مگر پھر ماہرین نے ان کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔

انہوں نے لفافوں کے کنارے دیکھے۔

کاغذوں کی تہیں دیکھیں۔

فولڈنگ کا زاویہ دیکھا۔

اور پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

لفافے کھولے جا چکے تھے۔

کسی نے انہیں پڑھا تھا۔

اب امید زندہ تھی۔


برلن میں جرمن انٹیلی جنس افسران دستاویزات کا جائزہ لے رہے تھے۔

کاغذات بظاہر اصلی تھے۔

نام حقیقی تھے۔

دستخط درست تھے۔

فوجی زبان مستند تھی۔

ہر چیز قابلِ یقین لگ رہی تھی۔

اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ جرمن پہلے ہی یونان پر حملے کے امکان کے بارے میں سوچ رہے تھے۔

انسان اکثر اسی جھوٹ پر یقین کرتا ہے جس پر یقین کرنا چاہتا ہو۔

شاید یہی جرمنوں کے ساتھ ہوا۔

ہٹلر تک رپورٹ پہنچی۔

اور پھر وہ فیصلہ ہوا جس نے تاریخ بدل دی۔

جرمن فوجی وسائل یونان، بلقان اور سارڈینیا کی طرف منتقل کیے جانے لگے۔

سسلی نسبتاً کمزور ہو گئی۔


9 جولائی 1943۔

اتحادی افواج نے سسلی پر حملہ کر دیا۔

ہزاروں فوجی، سینکڑوں جہاز اور بے شمار طیارے کارروائی میں شریک تھے۔

جرمن اور اطالوی افواج نے مزاحمت ضرور کی، لیکن وہ اس شدت کے لیے تیار نہیں تھیں۔

ہٹلر کی نظریں کہیں اور تھیں۔

اس کی فوجیں کہیں اور مصروف تھیں۔

اور اتحادی افواج وہاں پہنچ چکی تھیں جہاں انہیں اصل میں جانا تھا۔

صرف 38 دنوں میں سسلی اتحادیوں کے قبضے میں آ گئی۔ بعد ازاں اسی کامیابی نے مسولینی کے اقتدار کے خاتمے اور یورپ میں اتحادی پیش قدمی کی راہ ہموار کی۔


جنگ ختم ہونے کے کئی برس بعد دنیا کو معلوم ہوا کہ میجر ولیم مارٹن نام کا کوئی شخص کبھی موجود ہی نہیں تھا۔

وہ ایک افسانہ تھا۔

ایک کردار۔

ایک جھوٹ۔

اور اس جھوٹ کے پیچھے ایک گمنام شخص کی لاش تھی۔

گلائنڈر مائیکل۔

وہ آدمی جو اپنی زندگی میں شاید کسی اخبار کی سرخی نہ بن سکا۔

مگر مرنے کے بعد اس نے دنیا کی سب سے طاقتور جنگوں میں سے ایک کا رخ موڑنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

آج بھی عسکری ماہرین آپریشن منس میٹ کو تاریخ کی کامیاب ترین فریب کاریوں میں شمار کرتے ہیں۔

یہ کہانی صرف جاسوسی کی نہیں۔

یہ انسانی ذہانت، نفسیاتی جنگ اور اس حقیقت کی کہانی ہے کہ کبھی کبھی ایک جھوٹ ہزاروں گولیوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہو جاتا ہے۔

اور کبھی کبھی…

ایک مردہ آدمی بھی جنگ جیتنے میں مدد دے سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے