خیبر پختونخوا میں 57 کالجز کی آؤٹ سورسنگ پر پروفیسرز کا شدید ردعمل

رپورٹ (CBN247)

خیبر پختونخوا پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (KPPLLA) نے صوبائی حکومت کی جانب سے 57 سرکاری کالجز کو آؤٹ سورس کرنے کے فیصلے کو "تعلیمی نظام کی تباہی” قرار دیتے ہوئے شدید مخالفت کی ہے۔

ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر عبدالحمید خان آفریدی نے وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم کو لکھے گئے مراسلے میں کہا کہ یہ اقدام نہ صرف غریب طلبہ کو تعلیم سے محروم کر دے گا بلکہ سرکاری ملازمین کی نوکریاں بھی ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق، اس فیصلے سے یہ تاثر پیدا ہوگا کہ حکومت تعلیمی اداروں کو چلانے میں ناکام ہو چکی ہے، اور انہیں نجی شعبے کے حوالے کرنا عوامی مفاد کے خلاف ہے۔

پروفیسر آفریدی نے خبردار کیا کہ تعلیمی ادارے اگر "پرائیویٹ مافیا” کے کنٹرول میں چلے گئے تو غریب عوام کا استحصال ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کے 300 کالجز میں چار لاکھ سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں، جن میں سے ڈیڑھ لاکھ بی ایس پروگرامز میں پڑھ رہے ہیں۔ ان کا سوال تھا کہ اگر کارکردگی میں کمی ہے تو اسے بہتر بنانے کے بجائے نجی شعبے کو کیوں دیا جا رہا ہے؟

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کالجز کو بنیادی سہولیات جیسے پانی، بجلی، ہاسٹلز، فرنیچر اور سیکیورٹی فراہم کی جائیں۔جن کالجز پر مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قبضہ کیا ہے، انہیں فوری طور پر خالی کرایا جائے۔دور دراز علاقوں میں تعینات اساتذہ کو خصوصی مراعات دی جائیں اورنئے کالجز صرف مکمل انفراسٹرکچر کے ساتھ قائم کیے جائیں۔

پروفیسر آفریدی نے کہا کہ اگر حکومت واقعی ناکام اداروں کو بند کرنا چاہتی ہے تو پہلے دیگر طاقتور اداروں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر یہ منصوبہ واپس نہ لیا گیا تو اساتذہ، طلبہ اور عوام سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے