شہرِ بنوں کے قلب میں قائم قدیم میونسپل لائبریری آج بھی اپنے شاندار ماضی کی گواہ ہے، مگر بدقسمتی سے یہ عظیم علمی و تہذیبی ورثہ طویل عرصے سے عدم توجہی کا شکار ہے۔ اس تاریخی عمارت کی بنیاد 1905ء میں برطانوی دورِ حکومت کے دوران ملکہ وکٹوریہ میموریل لائبریری کے نام سے رکھی گئی، جو نوآبادیاتی طرزِ تعمیر کی ایک نادر مثال اور علاقے کی ثقافتی شناخت کا اہم حصہ رہی ہے۔
یہ لائبریری ماضی میں علم و آگہی کا ایک روشن مرکز تھی، جہاں سے تعلیم یافتہ اذہان نے جنم لیا اور بعدازاں پاکستان کی سرکاری بیوروکریسی میں نمایاں خدمات انجام دینے والے متعدد اعلیٰ افسران سامنے آئے۔ وقت کے ساتھ اس ادارے نے بنوں میں مطالعے اور فکری تربیت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا۔
1974ء میں اس تاریخی لائبریری کو عارضی طور پر پاکستان نیشنل سنٹر کے حوالے کیا گیا، تاہم نیشنل سنٹر کے خاتمے کے بعد عمارت دوبارہ میونسپل کمیٹی کے زیرِ انتظام آ گئی اور اسے میونسپل پبلک لائبریری کا نام دے دیا گیا۔ لیکن انتظامی تبدیلیوں اور مسلسل عدم توجہی کے باعث یہ عظیم عمارت آہستہ آہستہ خستہ حالی کا شکار ہوتی چلی گئی۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ عمارت کی دیواریں، چھت اور مجموعی ڈھانچہ فوری مرمت کے متقاضی ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت بحالی نہ کی گئی تو یہ نایاب تاریخی ورثہ ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہو سکتا ہے۔
اہلِ بنوں نے صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تاریخی لائبریری کی بحالی نوآبادیاتی طرزِ تعمیر کو برقرار رکھتے ہوئے، بنوں کی معروف تاریخی عمارت نیکلسن ہاس کے طرز پر کی جائے، تاکہ نہ صرف اس کی اصل شناخت بحال ہو بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ عمارت علم، تاریخ اور تہذیب کی علامت بن کر محفوظ رہ سکے۔