پشاور میں مطالعے کا زوال: بند ہوتے ریڈنگ رومز اور سوشل میڈیا کا بڑھتا اثر

احمد الیاس

پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں مطالعے کا کلچر تیزی سے زوال پذیر ہے۔ ایک وقت تھا جب
شہر کے مختلف علاقوں میں قائم ریڈنگ رومز، لائبریریاں اور کتب خانے نوجوانوں، طلبہ اور اہلِ علم کی توجہ کا مرکز ہوا کرتے تھے، مگر آج بیشتر ریڈنگ رومز بند ہو چکے ہیں اور کتاب سے رشتہ کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس رجحان کا سب سے زیادہ شکار نوجوان نسل ہو رہی ہے۔

مطالعے کے اس زوال کی سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل اسکرینز کا حد سے زیادہ استعمال ہے۔ فیس بک، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور یوٹیوب نے نوجوانوں کے وقت، توجہ اور سوچ کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ مختصر ویڈیوز اور فوری تفریح نے کتاب جیسی سنجیدہ سرگرمی کو غیر ضروری بنا دیا ہے۔ نوجوان گھنٹوں موبائل فون پر مصروف رہتے ہیں، مگر چند صفحات کی کتاب پڑھنے کو وقت کا ضیاع سمجھنے لگے ہیں۔

دوسری اہم وجہ ریڈنگ رومز اور پبلک لائبریریوں کی سرکاری سطح پر عدم توجہ ہے۔ پشاور جیسے تاریخی اور تعلیمی شہر میں جہاں کئی جامعات اور کالجز موجود ہیں، وہاں معیاری ریڈنگ رومز کا فقدان ایک سوالیہ نشان ہے۔ جو لائبریریاں موجود ہیں وہ یا تو سہولیات سے محروم ہیں یا پھر مناسب فنڈنگ نہ ہونے کے باعث بند ہو چکی ہیں۔ بجلی، انٹرنیٹ، تازہ کتب اور پرسکون ماحول جیسی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نوجوانوں کو ان مقامات سے دور رکھتی ہے۔

مزید برآں، تعلیمی نظام میں رٹہ سسٹم نے بھی مطالعے کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ طلبہ کتاب کو علم حاصل کرنے کے بجائے صرف امتحان پاس کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ نصابی کتب کے علاوہ غیر نصابی مطالعے کی نہ تو حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی عملی ترغیب دی جاتی ہے۔

معاشی مسائل بھی اس زوال میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مہنگی کتابیں، بڑھتی ہوئی فیسیں اور روزگار کی فکر نے نوجوانوں کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں مطالعہ ایک ثانوی ترجیح بن کر رہ گیا ہے۔ والدین بھی بچوں کو کتاب سے جوڑنے کے بجائے انہیں صرف ڈگری اور نوکری کی دوڑ میں شامل دیکھنا چاہتے ہیں۔

اگر اس صورتحال کو نہ روکا گیا تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ مطالعے سے دوری سوچنے، سوال کرنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے، جس کا براہِ راست اثر معاشرے کی فکری پسماندگی پر پڑتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو کتاب سے کٹ جائے، وہ تحقیق، تخلیق اور برداشت جیسے اوصاف سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، تعلیمی ادارے اور سول سوسائٹی مل کر ریڈنگ رومز کی بحالی اور نئے کتب خانوں کے قیام کو ترجیح دیں۔ اسکولوں اور جامعات میں مطالعہ کلچر کو فروغ دینے کے لیے کتاب میلوں، مطالعاتی نشستوں اور ریڈنگ کمپینز کا انعقاد کیا جائے۔ ساتھ ہی والدین اور اساتذہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ نوجوان نسل کو دوبارہ کتاب سے جوڑا جا سکے۔

کتاب محض ماضی کی یادگار نہیں بلکہ زندہ معاشروں کی فکری بنیاد اور ایک باشعور، باخبر اور ذمہ دار قوم کی تشکیل کی ضامن ہے۔ جس معاشرے میں مطالعے کا چراغ بجھ جائے وہاں سوچ کا دائرہ محدود، مکالمہ کمزور اور برداشت کا عنصر ناپید ہو جاتا ہے۔ اگر ہم ایک ایسا ملک چاہتے ہیں جو علم، تحقیق، شعور اور مثبت تنقید کی بنیاد پر ترقی کرے تو اس کے لیے مطالعے کے کلچر کو دوبارہ زندہ کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ کتاب سے جڑا معاشرہ ہی اپنے مستقبل کے فیصلے دانش مندی سے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے