تحریر و تحقیق: انجینئر عبدالولی خان یوسفزئی
پانی کی جنگ — ایک نئی حقیقت
جنوبی ایشیا میں پانی کی جنگ اب حقیقت بن چکی ہے۔
بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر میں 1,856 میگاواٹ صلاحیت کے “سوالکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ” کی منظوری نے اس جنگ کو مزید تیز کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ جموں و کشمیر کا سب سے بڑا آبی منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے، مگر اس کے اثرات صرف توانائی تک محدود نہیں — بلکہ یہ پاکستان کے آبی حقوق، زراعت اور معاشی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
بھارت کے بڑھتے ہوئے آبی عزائم
بھارت نے دریائے سندھ، جہلم اور چناب پر 60 سے زائد بڑے اور درمیانے درجے کے آبی منصوبے شروع کیے ہیں، جن میں سے 33 مکمل یا تکمیل کے قریب ہیں۔
ان منصوبوں میں کشن گنگا، راتلے، پکل دل، بگلیہار، دلسنگھ، سوالکوٹ اور لوئر کلنائی جیسے ڈیم شامل ہیں۔
یہ تمام دریا انڈس واٹر ٹریٹی (سندھ طاس معاہدہ) کے تحت پاکستان کے حصے میں آتے ہیں، مگر بھارت بظاہر بجلی کے حصول کے نام پر ان پر قابض ہوتا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان منصوبوں کے پیچھے اصل مقصد “اسٹریٹیجک واٹر کنٹرول” ہے — یعنی پاکستان کو زرعی اور صنعتی لحاظ سے کمزور کرنا۔
سندھ طاس معاہدہ — تاریخی پس منظر
1960ء میں ورلڈ بینک کی ثالثی سے طے پانے والے اس معاہدے کے مطابق:
مشرقی دریا (راوی، بیاس، ستلج) بھارت کے حصے میں گئے۔
مغربی دریا (سندھ، جہلم، چناب) پاکستان کے لیے مخصوص ہوئے۔
مگر افسوس کہ پاکستان نے معاہدے کے بعد اپنی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے کوئی سنجیدہ منصوبہ بندی نہیں کی۔
جہاں بھارت نے 1960 سے 2025 تک 60 سے زائد ڈیم بنا لیے، وہاں پاکستان محض تربیلا اور منگلا جیسے دو بڑے ڈیم اور چند چھوٹے ذخائر ہی تعمیر کر سکا۔
قومی پالیسی کی ناکامی
1994ء کے بعد پاکستان کی حکومتوں نے آبی منصوبوں کے بجائے آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (IPPs) پر انحصار شروع کیا۔
ان IPPs کے capacity payment معاہدوں نے معیشت کو جکڑ لیا — چاہے بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، حکومت کو کمپنیوں کو سالانہ اربوں روپے ادا کرنا پڑتے ہیں۔
اگر انہی رقوم کو آبی ذخائر پر خرچ کیا جاتا تو پاکستان آج پانچ سے سات بڑے ڈیم تعمیر کر چکا ہوتا۔
صرف capacity payments کی مد میں سالانہ تقریباً 900 ارب روپے ادا کیے جاتے ہیں،
جبکہ گزشتہ 30 برسوں میں IPPs کو دی گئی ادائیگیاں 25,000 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہیں — جو تربیلا جیسے آٹھ ڈیم تعمیر کرنے کے لیے کافی تھیں۔
ڈیم نہ بنانے کے نقصانات
پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 15.6 MAF سے کم ہو کر اب صرف 10.5 MAF رہ گئی ہے۔
ہر سال تقریباً 30 تا 35 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے — جو دو کروڑ ایکڑ زمین سیراب کرنے کے لیے کافی تھا۔
اگر یہ زمین آباد ہوتی تو پاکستان سالانہ 150 ارب ڈالر تک کی زرعی آمدن حاصل کر سکتا تھا،
روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوتے اور غذائی خودکفالت ممکن ہو جاتی۔
بڑے ڈیمز کی گرتی گنجائش
ڈیم تعمیر کا سال اصل گنجائش (MAF) موجودہ گنجائش (MAF) کمی (%)
تربیلا 1976 9.7 6.0 38٪
منگلا 1967 5.9 4.5 24٪
وارسک 1960 0.09 0.03 67٪
تربیلا اور منگلا اب اپنی مؤثر گنجائش کے صرف 25 تا 30 فیصد پر کام کر رہے ہیں۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو 2035ء تک یہ ڈیم مکمل طور پر “dead storage” بن جائیں گے۔
ماحولیاتی و معاشی اثرات
پانی کی کمی نے زراعت اور ماحول دونوں کو تباہ کر دیا ہے:
فصلوں کی پیداوار میں 50 فیصد تک کمی۔
سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کی زمینیں تیزی سے بنجر۔
زیرِ زمین پانی خطرناک حد تک نیچے۔
بجلی مہنگی ہونے سے صنعتیں بند۔
دریاؤں کے خشک ہونے سے آبی حیات اور ماحولیات کی تباہی۔
بھارت کا “آبی ہتھیار”
بھارت اب پانی کو توانائی نہیں بلکہ ایک فوجی ہتھیار (Water Weapon) کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
وہ ایسے ڈیم بنا رہا ہے جن سے کسی بھی وقت پانی کا بہاؤ روکا یا موڑا جا سکتا ہے۔
اگر جنگی حالات میں بھارت نے دریاؤں کا رخ بدل دیا تو پاکستان کے زرعی علاقے چند ہفتوں میں بنجر ہو جائیں گے۔
اصل ذمہ داری کس کی ہے؟
یہ صرف بھارت کی سازش نہیں بلکہ پاکستانی حکمرانوں کی اندرونی غفلت بھی اتنی ہی بڑی ہے۔
جنہوں نے کمیشنوں کے عوض IPPs کے معاہدے کیے، آبی پالیسی کو نظر انداز کیا اور قومی وسائل کی لوٹ مار کی — وہی آج کے بحران کے اصل ذمہ دار ہیں۔
اصلاحِ حال کی سمت
اب وقت آ چکا ہے کہ:
- تمام IPPs معاہدوں کا از سرِ نو جائزہ لیا جائے۔
- Capacity Payments ختم کر کے رقوم ڈیمز اور ذخائر پر خرچ کی جائیں۔
- تربیلا، منگلا، وارسک میں فوری silt dredging شروع کی جائے۔
- ایک نیا نیشنل واٹر پلان تشکیل دیا جائے تاکہ اگلے دس برسوں میں کم از کم تین بڑے ڈیم تعمیر ہوں۔
- پانی کے ضیاع اور بدانتظامی کے ذمہ داروں کے خلاف عدالتی کارروائی ہو۔
نتیجہ
پاکستان کا موجودہ آبی بحران قدرتی نہیں بلکہ پالیسی ناکامیوں، بدعنوانی اور قومی غفلت کا نتیجہ ہے۔
بھارت کے بڑھتے ہوئے ڈیم یقیناً بیرونی خطرہ ہیں، مگر اصل خطرہ ہماری اپنی بے حسی ہے۔
اگر ہم نے اب بھی اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو آنے والی نسلیں صرف پیاس نہیں بلکہ بھوک، غربت اور معاشی غلامی کے بوجھ تلے دب جائیں گی