پاک افغان کشیدگی کے بعد طورخم بارڈر ہر قسم کی آمد و رفت کیلئے بند

طورخم بارڈر پر کشیدگی؛ آمدورفت مکمل بند، تجارتی سرگرمیاں معطل

پاک افغان سرحد پر ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی، طورخم بارڈر کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، گزشتہ رات پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے اور کشیدہ صورتحال کے باعث طورخم سرحد کو دونوں اطراف سے بند کیا گیا۔ سرحد کی بندش کے بعد تجارتی سرگرمیاں اور پیدل آمدورفت مکمل طور پر معطل ہو چکی ہیں۔

ذرائع کے مطابق تمام مال بردار گاڑیوں کو لنڈی کوتل منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ ہزاروں مسافروں کو سرحد پر مشکلات کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی فروری اور مارچ میں طورخم بارڈر پر اسی نوعیت کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جب تعمیراتی سرگرمیوں کے تنازع پر دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ تین روز تک جاری رہا تھا۔

ان جھڑپوں میں 6 پاکستانی فوجی اور 2 شہری زخمی ہوئے، جبکہ توپ خانے کی گولہ باری سے متعدد مکانات، ایک مسجد اور کلیئرنگ دفاتر کو نقصان پہنچا۔

بعد ازاں دونوں اطراف کے قبائلی عمائدین کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں سرحد 27 روز بعد کھولی گئی تھی، تاہم تازہ صورتحال نے دوبارہ کشیدگی کو جنم دیا ہے۔

کسٹم حکام کے مطابق طورخم بارڈر کی بندش سے روزانہ تقریباً 15 لاکھ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ برآمدات اور درآمدات کی معطلی سے 54 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد مالی نقصان ہو چکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحد کو اسی وقت کھولا جائے گا جب افغان حکام طے شدہ پروٹوکول اور معاہدوں کی مکمل پاسداری یقینی بنائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے