پاکستان نے ایک بار پھر افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹی ٹی پی سمیت تمام دہشتگرد گروپوں کے خلاف مؤثر اور فوری کارروائی کی جائے۔ ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ افغانستان سے سرحد پار دہشتگردی کا مسئلہ مسلسل افغان حکام کے سامنے اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، تاہم افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان دہشتگرد گروپوں کیخلاف کارروائی کے مطالبے میں سنجیدہ ہے اور خطے کے امن کے لیے افغانستان کے تعاون کو ناگزیر قرار دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلوبل صمود فلاٹیلا پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی جاتی ہے جبکہ سابق سینیٹر مشتاق احمد اسرائیلی حراست سے رہا ہو چکے ہیں۔ پاکستان نے جنگ بندی معاہدے میں قطر، مصر اور سعودی عرب کے کردار کو بھی سراہا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار کی ایرانی ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر بات چیت ہوئی۔ ڈپٹی وزیراعظم کا سعودی ہم منصب سے رابطہ بھی ہوا جس میں غزہ کی صورتحال اور امن کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی پاکستان مشترکہ بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور ایک بڑے وفد کے ساتھ اسلام آباد پہنچے ہیں، جہاں تجارت، سرمایہ کاری اور پاکستان کی اقتصادی ترقی ایجنڈے کا اہم حصہ ہیں۔
پاکستان کا افغان حکومت سے دہشتگرد گروپوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ