تحریر؛ نجات خان مہمند۔
کہنےکو تو بہت کچھ ہے مگر موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھ کر اور دنیا میں سیاسی طور پر رونما ہونےوالی تبدیلیوں کےساتھ ساتھ چین کی ابھرتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر امریکہ نےانکا راستہ روکنے کےلئے ایشیا میں پچھلے بیس سالوں سےافغانستان میں اپنا ٹھکانہ بنانے کےلئےبہت پاپڑ بیلے لیکن افغانستان میں طالبان کی ہٹ دھرمی اور بگرام ایربیس پر آپس میں اتفاق نہ ہونے کی وجہ سےامریکہ کو چین پر باگرام سےنظر رکھنےکےلئے باگرام میں واپس آنےکےلئے پَر تولنے لگاہے مگر طالبان کی طرف سے کھل کر اجازت نہیں مل رہی جبکہ دوسری طرف امریکہ افغانستان میں اپنی کوئی ہم نوا حکومت دیکھنا چاہتی ہے لیکن طالبان امریکہ کےساتھ برابری کی سطح پر چلنےکےلئےراضی نظر نہیں آرہے جبکہ دوسری طرف افغانستان میں طالبان کےعلاوہ کوئی دوسری پارٹی یا دھڑا ہے ہی نہیں کہ افغانستان جیسے ملک پرانکا مکمل کنٹرول ہوسکے کیونکہ اس سے پہلے حامد کرزئی اور اشرف غنی جیسی حکومتیں گزری ہے جنکا کابل سےباہر کوئی کنٹرول نظر نہیں آرہا تھااسلئے امریکہ کو افغانستان طالبان کے حوالےکرناپڑا۔
اب ایک ہی رستہ امریکہ کےپاس ہے کہ افغانستان پر طالبان کا تسلط بھی ہو اور امریکہ کےساتھ تعاون بھی کرسکے اور امریکہ اپنی مفادات بھی حاصل کرلے۔ لیکن ایسا ممکن نظر نہیں آرہا البتہ طالبان کےاندر کوئی ایسا دھڑا ڈھونڈنا ہوگا کہ امریکہ کےساتھ تعاون بھی کرلےاور تھوڑے لبرل بھی ہو۔ اور یہ تب ممکن ہے جب ان کےاندر ایسا ہی دھڑا تیارکیاجاسکے۔ اب ان باتوں کو مدنظر رکھ کر پہلے دن سے افغان طالبان کے اندر ایسی طاقتیں موجود ہے جن کا شروع دن سےہی اختلافات چلےآرہےہیں جسکا عملی مظاہرہ حقانی دھڑے کے ملا خلیل حقانی اور عبدالغنی برادر کےدرمیان کئی دفعہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اب میری نظر میں ایسا لگ رہاہے کہ شائد ان طالبان کےاندر سے کوئی رجیم چینج کی جائے اور کابل کےاقتدار کی ڈوریں ملا حیبۃ اللہ سے چھین کر حقانی گروپ کے سربراہ سراج الدین حقانی کو دی جائے اور انکو اس شرط پر شائد پہلے سے راضی کیاگیا ہو کہ امریکہ کےساتھ تعاون کریگا جس کےبدلے افغانستان کو تسلیم بھی کیاجائیگا اور دیگر امور میں بھی انکے ساتھ تعاون کیاجائیگا۔مجھے سراج الدین حقانی اسلئےموزوں نظر آرہےہے کہ انکی قندھار کوئی آمد نہیں ہوئی ہے بلکہ سات آٹھ مہینےپہلے انکا دوبئی ایک وزٹ بھی ہوئی تھی تو ہوسکتا ہےوہاں انکی کسی بیرونی لوگوں کے ساتھ کوئی بیھٹک بھی ہوئی ہوگی کیونکہ بغیر کسی بیرونی اثر رسوخ کےسراج الدین حقانی کیسے دوبئی کی یاترا کرسکتےہے جہاں افغانستان کو کسی بھی ملک بشمول عرب عمارات نےنہ تسلیم کی ہو اور نہ انکےکوئی سفارتی تعلقات ہو۔
اس سےپہلے بھی امریکہ نے ملا عمر کو ہٹانے کی تگ و دو اور انکی جگہ ملا منصور اختر کو لانے کی کوشش نائن الیون کےبعد کی جو سی آئی کے اس وقت کے ڈائریکٹر رابرٹ گرینر نے اپنی کتاب ” eighty eight days to Kandahar“ میں ذکر کیا ہے کہ ہم نےکوئٹہ میں افغان طالبان ملااخترمحمد عثمانی اس وقت کے نائب امیرالمؤمنین اور عبدالجلیل اخوند وغیرہ سےکئی ملاقاتیں کیں کہ ہم آپکےساتھ تعاون کرینگے جبکہ کابل ریڈیو سےآپ یعنی ملا عثمانی اپنی امارت کا اعلان کرے۔ بدلہ میں اسامہ بن لادن کو ہمارے حوالے کرے اور آپ کو افغانستان حکومت دی جائیگی۔ آپ ملا عمر کی جگہ لیکر امیرالمؤمنین بن جائے۔ جسکےلئےانھوں نےانکار کیا۔
لیکن اب کی دفعہ صورتحال یکسر مختلف ہےکیونکہ اب طالبان امن چاہتےہیں اور ملک کو جنگ و جدل میں دکھیلنے کےحامی نہیں۔ اسلئے اب اگر کوئی بھی امریکی ہمنوا حکومت بن سکتی ہے تو یہ امریکہ اور افغانستان دونوں کےلئےمفید ہوسکتی ہے اور طالبان بھی جنگ کے بجائے کوئی دوسرا راستہ اختیارکرنےسےنہیں ہچکچائیں گے۔ کیونکہ دنیا میں اب چین روس اور امریکہ بلاکس نہ صرف بن رہےہیں بلکہ ان میں کچھ شفلنگ بھی ہورہی ہے جیسے سعودی عرب اور دوسرےعرب ممالک امریکہ پر اپنی سکیورٹی پر اکتفاکرنے کے بجائے دوسری قوتوں پر انحصار کےلئےراستے تلاش کرنے کی کوشش میں ہیں۔
افغانستان۔۔۔۔۔۔ کیا ہوسکتاہے؟