پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم فیصل ترکئی اور وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے اپنی وزارتوں سے استعفیٰ دے کر وزیر اعلیٰ کو ارسال کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ کی جانب سے دونوں وزراء کو کہا گیا تھا کہ چیئرمین عمران خان ان کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔ یہ بات ان کے حلف لینے کے چند دن بعد ہی شروع ہوگئی تھی کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائیں۔ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد دونوں کو آگاہ کیا گیا کہ عمران خان ان سے مطمئن نہیں ہیں اور ان کے قلمدان تبدیل کردیے جائیں گے۔ اس صورتحال پر دونوں وزراء نے اپنے خاندانوں سے مشاورت کے بعد استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا تاکہ مستقبل میں دوبارہ یہ نہ کہا جائے کہ عمران خان خوش نہیں ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ دونوں کو وزارتیں بھی خاندانی پس منظر کی بنیاد پر ملی تھیں، کیونکہ فیصل ترکئی سابق صوبائی وزیر شہرام ترکئی کے بھائی ہیں جو اس وقت رکن قومی اسمبلی ہیں، جبکہ عاقب اللہ سابق اسپیکر قومی و صوبائی اسمبلی رہ چکے ہیں۔ تاہم پارٹی کے اندر اپنی مضبوط پوزیشن کی وجہ سے وہ اختیارات براہ راست استعمال کرنا چاہتے تھے۔
ایک رکن صوبائی اسمبلی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہونے والی ایک میٹنگ کے دوران ایک ایم پی اے نے وزیر اعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کے اراکین اپنی بے بسی کا شکوہ کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے جب ان سے نام پوچھا تو مذکورہ رکن اسمبلی نے پانچ وزراء کے نام گنوائے۔