احمد الیاس
پشاور یونیورسٹی کے ایک نوجوان محقق نے شمالی وزیرستان کے پہاڑوں میں پایا جانے والا ایک قدرتی مادہ دریافت کیا ہے جو خراب شدہ ڈی این اے کو تقریباً سو فیصد تک درست کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین اسے کینسر کے علاج اور کیموتھراپی کے مضر اثرات کم کرنے کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
یونیورسٹی آف پشاور کے انسٹیٹیوٹ آف زولوجیکل سائنسز کے پی ایچ ڈی سکالر عابد اللہ داور نے اپنی تحقیق میں یہ اہم دریافت کی ہے۔ یہ مادہ انسان اور چوہے کے جسم میں خراب شدہ ڈی این اے کو درست کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ مادہ شمالی وزیرستان کے پہاڑوں میں پائے جانے والے ایک درخت سے حاصل کیا گیا، اور تجربات میں اس نے تقریباً 100 فیصد تک ڈی این اے کی مرمت کی صلاحیت ظاہر کی۔
تحقیق کے دوران ایسے چوہوں پر بھی تجربات کیے گئے جنہیں کیموتھراپی کی دوا سیسپلٹن دی گئی تھی، جو ڈی این اے کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ نئی دوا نے ان چوہوں کو بچایا اور بال جھڑنے، وزن کم ہونے، السر اور خون آنے جیسے خطرناک اثرات کو کم کیا۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں کینسر کے علاج اور بچاؤ کے لیے نئی راہیں کھول سکتی ہے۔ مزید تحقیق کے بعد یہ دوا مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن بن سکتی ہے۔
اس تحقیق کی نگرانی ڈی این اے ڈیمیج اور ریپیئر کے ماہر ڈاکٹر محمد خسروں نے کی، جن کے اس شعبے میں کئی تحقیقی مقالے شائع ہو چکے ہیں۔