عرفان خان
خیبر پختونخوا میں ایک طرف جہاں 41سینئرترین بیوروکریٹس کیساتھ امتیازی سلوک برتاجانے لگا وہیں دوسری جانب ڈیپوٹیشن پر تعینات 26 سرکاری اہلکار اعلیٰ حکام کی خصوصی آشیرباد سے پر کشش عہدوں پر راج کرنے لگے۔ سینئر ترین بیوروکریٹ کو او ایس ڈی بناکر اہم اور پرکشش عہدوں پر قریبی رشتہ داروں اور منظور نظر کو ڈیپوٹیشن پر تعینات کرنے سے بیوروکریسی میں نفرت کی فضا جنم لینے لگی۔
خیبر پختونخوا میں بہتر طرز حکمرانی کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا گیا ہے تاہم سینئر ترین بیوروکریٹس کیساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے سے گڈ گورننس نظام پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق سول سیکرٹریٹ اور منسلک محکموں کے اہم ترین عہدوں پر 26افراد کو ڈیپوٹیشن پر تعینات کیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب گریڈ17سے21 کے41افسران آفیسرز آن سپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی)بنا دیئے گئے ہیں۔ اہم عہدوں پر منظورنظر افراد کو بٹھانے سے محکموں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جانے لگے۔ذرائع کے مطابق سینئر ترین بیوروکریٹس میں سے بیشتر نے اعلیٰ حکام کے غیر قانونی احکامات کو ماننے سے انکار کیا تھا اس لئے انہیں اب انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
او ایس ڈی بیوروکریٹس کے نام اور گریڈ
پراونشل سول سروس (سیکرٹریٹ گروپ) کے گریڈ21کے سینئر ترین بیوروکریٹ ارشد خان اور پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروسز گروپ کے گریڈ21کے سینئر ترین بیوروکریٹ محمود حسن ناپسندیدگی کی بنیاد پر گزشتہ کئی ماہ سے او ایس ڈی ہیں جنہیں دیگر الفاظ میں اسٹیبلشمنٹ میں تعیناتی کا منتظر بھی کہا جاتا ہے۔
پراونشل مینجمنٹ سروسز گروپ کے گریڈ20کے محمد اصغر خان، پراونشل سول سروسز (ایگزیکٹیو گروپ)کے گریڈ20کے محمد علی شاہ، پاکستان ایڈمنسٹریٹیو گروپ کے گریڈ20کے مطیع اللہ خان، پراونشل مینجمنٹ سروسز گروپ کے گریڈ20کے عامر آفاق، پراونشل مینجمنٹ سروسز گروپ کے گریڈ20کے عین اللہ اور پراونشل مینجمنٹ سروسز گروپ کے گریڈ20کے خواجہ فہیم سجاد بھی گزشتہ کئی ماہ سے تعیناتی کے منتظر ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان تمام سینئر ترین آفیسرز کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جارہایا پھر ان آفیسر ز سے اعلیٰ حکام ماضی کا کوئی بدلہ لے رہے ہیں ذرائع کے مطابق بیوروکریسی کی نجی محفلوں میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ ان میں بیشتر بیوروکریٹ نے اعلیٰ حکام کے غیر قانونی کاموں کو ماننے سے انکار کیا تھا اور سزا کے طور پر انہیں کسی بھی جگہ تعینات نہیں کیا جارہا۔
اسی طرح اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں تعیناتی کے منتظر یا او ایس ڈی افسران میں پاکستان ایڈمنسٹریٹیو گروپ کے گریڈ19کے اقبال حسین، پاکستان ایڈمنسٹریٹیو گروپ کی گریڈ19کی شاہانہ بی بی، پراونشل مینجمنٹ سروسز گروپ کے گریڈ19کے حفیظ اللہ، گریڈ19کے خورشید عالم، گریڈ19کے سید ظفرعلی شاہ، گریڈ19کے راشد خان، گریڈ19کے حامد علی، گریڈ19کے آصف علی، گریڈ19کے محمد ناصر خان، گریڈ19کے نور عالم خان، گریڈ19کے عبد الکبیر خان اور پاکستان ایڈمنسٹریٹیو گروپ کے گریڈ19کے حمید الرحمن شامل ہیں۔
فہرست کے مطابق پراونشل مینجمنٹ سروسز گروپ کے گریڈ18کی ماروی مالک شیر، گریڈ18کے محمد انوار الحق، گریڈ18کی فضیلت جہاں، گریڈ18کے فہد اکرام قاضی، گریڈ18کے ارشد خان، گریڈ18کے ڈاکٹر عبدالواجد، گریڈ18کے محمد جاوید، گریڈ18کے پیر محمد، گریڈ18کے نیک محمد، پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروسزگروپ کے گریڈ18کے محسن اقبال، پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروسز گروپ کے گریڈ18کے شہزاد محبوب، پراونشل مینجمنٹ سروسز گروپ کے گریڈ18کے عدنان ابرار، گریڈ18کے ضیاء الرحمن، گریڈ18کے محمد اقبال، گریڈ18کے احسان الحق اور گریڈ18کے اختر نواز بھی اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں تعیناتی کے منتظر یا او ایس ڈی ہیں۔ پاکستان ایڈمنسٹریٹیو گروپ کے گریڈ17کی زہرہ نور اور نمرہ اویس بھی تعیناتی کی منتظر ہیں۔
اعلیٰ حکام کی آشیرباد سے ڈیپوٹیشن پر تعینات اہلکار
دوسری جانب گریڈ20اور21کے اہم بیوروکریٹ اور سیاسی سفارش پر قریبی رشتہ داروں اور منظور نظر افراد کو دیگر محکموں سے لاکراہم ترین اور پرکشش عہدوں پر تعینات کیا ہے۔ ڈیپوٹیشن پر تعینات اہلکاروں پر اعلیٰ حکام کے انتہائی قریب سمجھے جاتے ہیں اور بیک وقت ان سے کئی کام لئے جاتے ہیں ڈیپوٹیشن پر تعینات بیشتر اہلکارگزشتہ8سال سے تعینات ہیں اور وہ سیکرٹریٹ افسران کی طرح مراعات لے رہے ہیں۔
فہرست کے مطابق محکمہ منصوبہ بندی و ترقی میں گریڈ 20کے اہم ترین اور پرکشش ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر گریڈ19کے پبلک پراسیکیوٹر عثمان زمان کو ڈیپوٹیشن پر تعینات کیا گیا ہے۔
پاکستان آڈٹ اینڈ اکاونٹ سروس کے شاہ محمود کو ڈیپوٹیشن پر سیکرٹری خوراک اور ان لینڈ ریونیو سروس کی فوزیہ اقبال کوڈیپوٹیشن پر ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں کمپٹرولر تیمور شاہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں ڈپٹی سیکرٹری تعینات کئے گئے ہیں۔
پاکستان آڈٹ اینڈ اکاونٹ سروس گروپ کے آصف رشید ڈیپوٹیشن پر محکمہ خزانہ میں ایڈیشنل سیکرٹری تعینات ہیں۔ گورنر سیکرٹریٹ میں پاکستان آڈٹ اینڈ اکاونٹ سروس کے زبیر ارشد گورنر سیکرٹریٹ میں ایڈیشنل سیکرٹری، قومی احتساب بیورو(نیب) کے ڈپٹی ڈائریکٹر صدیق اللہ جان ڈپٹی سیکرٹری اور پلاننگ آفیسر چنگیز خان ڈیپوٹیشن پر سیکشن آفیسر تعینات ہیں۔
محکمہ داخلہ و قبائلی امور میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ہونے والوں میں لاء آفیسر شگفتہ ملک سپیشل سیکرٹری، پبلک پراسکیوٹر اسد اصغر ڈپٹی سیکرٹری، اسسٹنٹ ڈائریکٹر پولیس ٹریننگ سکول اشفاق سیکشن آفیسر، پبلک پراسکیوٹر فضل قیوم سیکشن آفیسر کے عہدوں پر تعینات ہیں۔ خیبر پختونخوا پبلک پروکیورمنٹ اتھارٹی میں محکمہ صنعت کے سید بادشاہ ڈیپوٹیشن پر ڈپٹی ڈائریکٹر اور عبدالولی خان یونیورسٹی کا ملازم سید سجاد علی شاہ ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات کئے گئے ہیں۔
محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں ایکسئین فریحہ ملاحت ایڈیشنل سیکرٹری، ایکسئین عنایت ڈپٹی سیکرٹری، ایس ڈی او شیوناتھ سیکشن آفیسر اور ایس ڈی او اسحاق سیکشن آفیسر کے عہدوں پر ڈیپوٹیشن پر تعینات ہیں۔
محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ میں پبلک پراسیکیوٹر کامران خان ڈپٹی سیکرٹری کے عہدے پرتعینات ہیں۔ ڈسٹرکٹ اٹارنی عثمان غنی ڈائریکٹر للسائل و المحروم فاونڈیشن کے عہدے پر ڈیپوٹیشن پر تعینات ہیں پروٹوکول ونگ ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے قیصر عالم ایلیمنٹری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے عہدے پر ڈیپوٹیشن پر تعینات ہیں۔ اسی طرح ڈسٹرکٹ اٹارنی طاہر اقبال کو ڈیپوٹیشن پر محکمہ قانون میں ایڈیشنل سیکرٹری کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے