آثارِ قدیمہ کے مقامات و عجائب گھروں کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے ماہرین و افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل ایک ہفتے میں رپورٹ طلب

پشاور (احتشام طورو )

ڈائریکٹریٹ جنرل آثار قدیمہ خیبرپختونخوا کی جانب سے حالیہ سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے صوبے کے آثار قدیمہ کے مقامات اور عجائب گھروں میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہےماہرین اور محکمہ آثار قدیمہ کے افسران صوبے بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرے گی اور تاریخی مقامات کے نقصانات کا براہ راست جائزہ لے گی۔کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر آثار قدیمہ کے مقامات کی اپنی اصلی حالت میں بحالی اور حفاظتی منصوبے تیار کیے جائیں گے۔کمیٹی آفات سے بچاؤ اور نقصانات کم کرنے کے لیے طویل مدتی منصوبوں کی سفارشات پیش کرے گی۔
:خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے نتیجے میں مکانات، تعلیمی اداروں اور دیگر سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اسی تناظر میں صوبہ بھر میں موجود آثارِ قدیمہ کے مقامات اور عجائب گھروں کے ممکنہ متاثر ہونے کی تفصیلی رپورٹ صوبائی حکومت کو ایک ہفتے کے اندر ارسال کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اہر اس حوالے سے باقاعدہ طور پر ایک کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے ڈائریکٹر جنرل، محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر، ڈاکٹر عبدالصمد کی ہدایت پر ملاکنڈ ڈویژن، ہزارہ ڈویژن، مردان، صوابی اور بونیر کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں متعلقہ مقامات پر موجود آثارِ قدیمہ اور عجائب گھروں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر اور تمام متعلقہ معلومات دستاویزی شکل میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف آرکیالوجی اینڈ میوزمز کو مقررہ وقت میں فراہم کریں گی۔ محکمہ کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن کے لیے موحید گل (کیوریٹر)، امان اللہ (اسسٹنٹ ڈائریکٹر) اور فضل احد (ورک سپروائزر)، ہزارہ ڈویژن کے لیے سید نیاز علی شاہ (کیوریٹر) اور محمد منیر (آرکیالوجیکل کنزرویٹر)، مردان کے لیے نیاز ولی (فیلڈ سپروائزر) اور محمد طیب جبکہ صوابی اور بونیر کے لیے گل نبی (فیلڈ آفیسر) اور ارشد خان (سب انجینئر) پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو ایک ہفتے کے اندر متاثرہ مقامات کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہوں گی۔ ڈی جی اثار قدیمہ کے مطابق خیبرپختونخوا کے تاریخی و ثقافتی ورثے کو حالیہ سیلاب کی وجہ سے خطرات کا سامنا رہا۔ خیبرپختونخوا حکومت اپنے تاریخی ورثے کی حفاظت اور بحالی کے لیے مزید اقدامات اُٹھا رہی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے