ریاض حسین
پشاور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی اتوار کو اچانک پشاور آمد اور گورنر ہاؤس میں خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی سے ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب صوبہ شدید سیاسی کشیدگی، سیکیورٹی خدشات اور پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے باعث غیر معمولی صورتحال سے گزر رہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ اور گورنر خیبر پختونخوا کے درمیان ملاقات جاری ہے، تاہم اس کے ایجنڈے کے بارے میں فوری طور پر کوئی سرکاری تفصیل سامنے نہیں آئی۔ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ ملاقات محض معمول کی سیاسی ملاقات سے زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
خاص طور پر اس لیے کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان گزشتہ دو روز سے جاری مذاکرات کسی حتمی سمجھوتے کے بغیر ختم ہوگئے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان برقرار رکھا ہے۔
محسن نقوی کی آمد کس پس منظر میں ہوئی؟
محسن نقوی کی پشاور آمد سے چند گھنٹے قبل ہی وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈلاک کی تصدیق ہوئی۔ وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے مذاکرات کے آخری مرحلے میں انسداد دہشت گردی سے متعلق بعض commitments سے پیچھے ہٹ کر مذاکراتی عمل کو متاثر کیا۔
محسن نقوی کے مطابق ان commitments میں پولیس اور انسداد دہشت گردی کے لیے صوبائی سطح پر وسائل، سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون، merged اضلاع میں انسداد دہشت گردی کے فیصلوں کی صوبائی ownership، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور دہشت گردی کے خلاف واضح پالیسی شامل تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کو سیاسی معاملہ نہیں بنانا چاہیے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاق کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے مذاکرات کے دوران پیش کیے گئے اپنے سات نکاتی مطالبات عوام کے سامنے رکھے ہیں اور کہا ہے کہ ان میں کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی مطالبہ شامل نہیں۔
یوں محسن نقوی کی پشاور آمد ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی اختلاف اب براہ راست امن و امان اور انسداد دہشت گردی کی پالیسی سے بھی جڑ گیا ہے۔
گورنر راج یا ایمرجنسی کا امکان؟
موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ توجہ اس سوال پر ہے کہ کیا وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں کوئی غیر معمولی آئینی قدم اٹھانے پر غور کر رہی ہے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں گورنر راج اور ایمرجنسی دونوں کے امکانات سیاسی بحث کا حصہ بن چکے ہیں۔
2 اکتوبر کو صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، محسن نقوی اور اتحادی رہنماؤں کے اجلاس میں خیبر پختونخوا کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر غور کیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں گورنر راج کے ساتھ ساتھ ایمرجنسی کے امکان پر بھی بات ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم حکومت نے اس مرحلے پر مذاکرات کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
اب صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور پی ٹی آئی کا لانگ مارچ شروع ہوچکا ہے۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ گورنر فیصل کریم کنڈی نے آج خود کہا ہے کہ صوبے کو بچانے کے لیے ضرورت پڑنے پر ایمرجنسی نافذ کی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں صدر، وزیراعظم اور متعلقہ ادارے اس معاملے پر غور کرسکتے ہیں۔
یہ بیان محسن نقوی کی اسی روز پشاور آمد اور گورنر سے ملاقات کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔
تاہم گورنر راج کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا
اس تمام پس منظر کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔
وفاقی حکومت نے اس بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا، جبکہ 2 اکتوبر کو حکومت نے پہلے سیاسی مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس لیے محسن نقوی اور گورنر کنڈی کی ملاقات کو فی الحال سیاسی و سیکیورٹی مشاورت کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
البتہ یہ امکان ضرور موجود ہے کہ ملاقات میں وفاقی حکومت کے آئندہ ممکنہ اقدامات، لانگ مارچ سے پیدا ہونے والی صورتحال، صوبائی حکومت کے ساتھ تعلقات اور آئینی آپشنز پر تبادلہ خیال کیا جائے۔
لانگ مارچ نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا
پی ٹی آئی کا لانگ مارچ خیبر پختونخوا کے شہر لکی مروت سے شروع ہوا ہے اور اس کا مقصد اسلام آباد پہنچ کر عمران خان کی رہائی سمیت دیگر مطالبات کے حق میں احتجاج کرنا ہے۔
وفاقی حکومت نے پہلے ہی اسلام آباد میں سیکیورٹی انتظامات سخت کردیئے ہیں اور احتجاج کے حوالے سے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
اس صورتحال میں وفاق کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ایک طرف سیاسی احتجاج کو طاقت کے استعمال کے بغیر کنٹرول کیا جائے اور دوسری جانب کسی بھی ممکنہ تصادم یا امن و امان کی خرابی سے بچا جائے۔
خیبر پختونخوا حکومت کے لیے بھی صورتحال آسان نہیں۔ صوبہ پہلے ہی دہشت گردی کی شدید لہر سے دوچار ہے اور جنوبی اضلاع میں سیکیورٹی صورتحال وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان مسلسل تنازع کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
محسن نقوی اور کنڈی کی ملاقات کا ممکنہ ایجنڈا
موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ملاقات میں کم از کم پانچ معاملات زیر بحث آنے کا امکان ہے:
اول، لانگ مارچ کی صورتحال:
مارچ کہاں تک پہنچا، شرکا کی تعداد کتنی ہے اور آنے والے دنوں میں صوبائی حکومت کا کردار کیا ہوگا؟
دوم، امن و امان:
وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان سیکیورٹی coordination اور ممکنہ احتجاج کے دوران پولیس و دیگر اداروں کی حکمت عملی۔
سوم، انسداد دہشت گردی:
وفاق کا الزام ہے کہ صوبائی حکومت نے مذاکرات میں بعض سیکیورٹی commitments سے پیچھے ہٹ کر عمل درآمد سے گریز کیا۔ اس معاملے پر آئندہ حکمت عملی بھی زیر بحث آسکتی ہے۔
چہارم، آئینی آپشنز:
گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان پر سیاسی سطح پر پہلے ہی بحث جاری ہے۔ موجودہ حالات میں گورنر سے مشاورت اس حوالے سے اہم ہوسکتی ہے۔
پنجم، مرکز اور صوبے کے تعلقات:
اگر لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف بڑھتا ہے اور صوبائی حکومت اسے سیاسی طور پر support کرتی ہے تو وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ایک اہم سیاسی اشارہ
اس ملاقات کا سب سے اہم پہلو شاید خود ملاقات سے زیادہ اس کا وقت ہے۔
ایک طرف وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ناکام ہوئے، دوسری طرف پی ٹی آئی نے لانگ مارچ شروع کردیا، وزیر داخلہ نے خیبر پختونخوا حکومت پر مذاکرات سبوتاژ کرنے کا الزام لگایا، اور اسی دن گورنر نے ایمرجنسی کے امکان کی بات کی۔
ان تمام developments کے درمیان وفاقی وزیر داخلہ کا پشاور پہنچ کر براہ راست گورنر سے ملاقات کرنا اس بات کا اشارہ ضرور دیتا ہے کہ وفاق خیبر پختونخوا کی صورتحال کو اب محض ایک سیاسی احتجاج کے طور پر نہیں دیکھ رہا بلکہ اسے امن و امان، حکمرانی اور وفاقی-صوبائی تعلقات کے وسیع تر تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
گورنر کنڈی پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال میں خیبر پختونخوا طویل مارچ کا متحمل نہیں ہوسکتا اور اگر حالات مزید خراب ہوئے تو آئینی اقدامات کی نوبت آسکتی ہے۔
اگلے چند گھنٹے اہم
اب اصل اہمیت ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیان یا محسن نقوی کے میڈیا سے خطاب کی ہوگی۔
اگر ملاقات کے بعد ایمرجنسی، گورنر راج، آئینی اختیار، پولیس، لانگ مارچ یا وفاقی سیکیورٹی اقدامات کا براہ راست ذکر سامنے آتا ہے تو اسے وفاق کی آئندہ حکمت عملی کا اہم اشارہ سمجھا جائے گا۔
اگر اس کے برعکس دونوں رہنما صرف سیاسی مذاکرات، امن و امان اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ وفاق ابھی بھی کسی بڑے آئینی اقدام کے بجائے سیاسی اور انتظامی دباؤ کے ذریعے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
فی الحال سب سے محتاط نتیجہ یہی ہے کہ محسن نقوی کی پشاور آمد اور گورنر کنڈی سے ملاقات انتہائی اہم سیاسی و سیکیورٹی مشاورت ہے، لیکن اسے گورنر راج یا ایمرجنسی کے حتمی فیصلے سے تعبیر کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔