مردان بورڈ نتائج: کامیابی کی شرح 40 سے 80 فیصد تک کیسے پہنچی؟

ریاض حسین
مردان: ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ مردان نے بارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان کردیا، مجموعی
طور پر تقریباً 97 ہزار طلبہ و طالبات نے گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات میں حصہ لیا، جن میں سے 86 ہزار سے زائد کامیاب قرار پائے۔ بورڈ کے مطابق مجموعی کامیابی کی شرح تقریباً 80 فیصد رہی۔
بورڈ کے چیئرمین پروفیسر جہانزیب نے نتائج کو امتحانی نظام میں کی جانے والی اصلاحات کا مثبت نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ان کے مطابق 2025 میں کامیابی کی شرح تقریباً 40 فیصد تھی، تاہم رواں سال طلبہ کی بہتر تیاری، نقل کے رجحان میں کمی اور محنت کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث نتائج میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امتحانات میں نقل کی روک تھام کے لیے کلسٹر سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ ایس ایل اوز اور تصوراتی تعلیم (Concept-based Learning) پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کلسٹر سسٹم کے تحت یہ دوسرا یا تیسرا امتحان ہے اور اس نظام کے باعث امتحانی عمل میں شفافیت بہتر ہوئی ہے۔
پروفیسر جہانزیب کے مطابق حکومت، تعلیمی بورڈز، تعلیمی اداروں کے سربراہان، اساتذہ، والدین اور طلبہ سب مل کر امتحانی نظام میں بہتری کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے بقول طلبہ اور والدین میں بھی یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ امتحانات میں نقل کی گنجائش محدود ہو رہی ہے اور کامیابی کے لیے محنت اور بہتر تیاری ضروری ہے۔
نمایاں پوزیشنیں
نتائج کے مطابق پری میڈیکل گروپ میں طفیل شہید آرمی کالج کے طالب علم محمد مجیب نے رول نمبر 622156 کے تحت 1200 میں سے 1150 نمبر حاصل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی۔
گرلز کیڈٹ کالج مردان کی طالبہ ماہ نور معراج نے رول نمبر 601087 کے تحت 1143 نمبر حاصل کرکے دوسری، جبکہ ہدف کالج نوشہرہ کی طالبہ زونیرا فاطمہ نے رول نمبر 616259 کے تحت 1142 نمبر حاصل کرکے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
نتائج میں گرلز کیڈٹ کالج مردان کی طالبات نے بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جہاں زوباریہ ظفر نے پہلی جبکہ ان کی بہن زوہا ظفر نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
جنرل سائنس گروپ میں سلمہ بی بی نے پہلی، ابہہ حیات نے دوسری جبکہ محمد حاشر اور عروسہ گل نے مشترکہ طور پر تیسری پوزیشن حاصل کی۔
آرٹس گروپ میں شایستہ نور نے پہلی، فائزہ نے دوسری جبکہ کلثوم ناز نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
تصوراتی تعلیم سے طلبہ کی صلاحیتوں میں بہتری
تعلیمی ماہرین نے مردان بورڈ کے نتائج میں بہتری کو امتحانی نظام میں اصلاحات اور تصوراتی تعلیم کی جانب بڑھتی ہوئی توجہ سے جوڑا ہے۔ تعلیم کے ماہر پروفیسر ابرار حسین کے مطابق ایس ایل اوز اور کنسپچول پیپرز کے نظام سے طلبہ کو صرف رٹنے کے بجائے موضوع کو سمجھنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع مل رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ تعلیمی بورڈز کے چیئرمین، اداروں کے سربراہان، اساتذہ، والدین اور طلبہ بھی اصلاحات کے عمل میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق نقل کی گنجائش کم ہونے کے باعث طلبہ کی توجہ حقیقی سیکھنے، تیاری اور محنت کی طرف بڑھ رہی ہے، جو مستقبل میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
تقریب میں سیکریٹری تعلیم خالد خان بھی موجود تھے، جنہوں نے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات میں نقد انعامات اور شیلڈز تقسیم کیں۔ کامیاب طلبہ نے اپنی کامیابی کو والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی محنت کا نتیجہ قرار دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے