ریاض حسین
پشاور: پشاور کے نواحی علاقے میں 13 سالہ بچی کی مبینہ کم عمری کی شادی کا معاملہ سامنے آنے پر متعلقہ اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے بچی کو حفاظتی تحویل میں لے لیا۔
ذرائع کے مطابق بچی کا نکاح ہو چکا تھا تاہم رخصتی ابھی باقی تھی۔ اطلاعات کے مطابق شادی پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ پشاور میں کرائی جا رہی تھی۔ کارروائی کے بعد بچی کو مقامی شیلٹر ہوم منتقل کردیا گیا، جہاں سے اسے متعلقہ چائلڈ پروٹیکشن عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران بچی کی عمر، نکاح کی حیثیت، والدین یا سرپرستوں کی رضامندی اور شادی کے پس منظر سے متعلق مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔
پنجاب سے پشاور آنے کی وجہ کیا تھی؟
واقعے نے کم عمری کی شادی کے ساتھ ساتھ بین الصوبائی شادیوں اور مختلف صوبوں میں موجود قانونی فریم ورک کے فرق سے متعلق بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اہم سوال یہ ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد 13 سالہ بچی کی شادی کے لیے پشاور کیوں آئے؟ اگر یہ خاندانی یا باہمی رضامندی سے طے شدہ شادی تھی تو اس کے تمام قانونی پہلوؤں کی شفاف جانچ ضروری ہے۔
تفتیش میں اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ کہیں شادی کے نام پر جبری شادی، انسانی اسمگلنگ، خرید و فروخت یا کسی اور قسم کے استحصال کا معاملہ تو موجود نہیں۔ تاہم حتمی نتیجہ مکمل تحقیقات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہی اخذ کیا جاسکے گا۔
کم عمری کی شادی کے قوانین پر سوالات
خیبر پختونخوا میں کم عمری کی شادی سے متعلق موجود قانونی فریم ورک اور ملک کے دیگر حصوں میں حالیہ قانونی تبدیلیوں کے باعث بین الصوبائی معاملات میں قانون کے اطلاق سے متعلق سوالات بھی پیدا ہوئے ہیں۔
ماہر حقوقِ اطفال اور سماجی کارکن عمران ٹکر کے مطابق بچوں کے تحفظ اور کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے مؤثر قانونی اقدامات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق مختلف صوبوں میں قانونی فریم ورک کے فرق کو دور کرنے اور ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ناگزیر ہے۔
عمر کی تصدیق بنیادی اہمیت رکھتی ہے
حکام کے لیے ضروری ہوگا کہ بچی کی عمر کی تصدیق پیدائش کے اندراج، شناختی ریکارڈ، نکاح نامے اور دیگر متعلقہ دستاویزات سے کی جائے۔
اسی طرح والدین یا سرپرستوں کی رضامندی، نکاح کی قانونی حیثیت اور شادی میں شامل تمام افراد کے کردار کی بھی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
اگر تحقیقات میں زبردستی، تشدد، انسانی اسمگلنگ یا کسی دوسرے جرم کے شواہد سامنے آتے ہیں تو متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔
بچے کی شناخت ظاہر نہ کرنے کی اپیل
ایسے حساس معاملات میں میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین سے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ بچی کا نام، تصویر، مکمل پتہ، خاندان کی شناخت یا شیلٹر ہوم کا مقام ظاہر کرنے سے اس کی سلامتی متاثر ہوسکتی ہے۔
حالیہ کیس میں اصل توجہ بچی کے تحفظ، عمر کی تصدیق، نکاح کی قانونی حیثیت اور واقعے کے مکمل پس منظر کی شفاف تحقیقات پر ہونی چاہیے۔