ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اسرائیلی حملے میں شہادت اور ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے اس حملے میں بچ جانے کے حوالے سے تفصیلات سامنے آگئیں۔
امریکی اخبا واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے عسکری کمانڈرز نے جنگ کی ابتدائی منصوبہ بندی میں ہی ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری اسرائیل کے سپرد کر دی تھی۔
اخبار کے مطابق اس فیصلے کی بنیاد اسرائیل کی دہائیوں پر محیط خفیہ کارروائیوں اور عسکری مہارت تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری کو اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے تہران کے وسط میں واقع ایک کمپلیکس پر میزائل حملہ کیا جس کے نتیجے میں علی خامنہ ای کی 37 سالہ قیادت کا خاتمہ ہو گیا اور اس حملے میں ایران کی دفاعی کونسل، مسلح افواج، پاسداران انقلاب اور وزارتِ دفاع کے سربراہان بھی شہید ہو گئے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ کارروائی ایک سال طویل انٹیلی جنس آپریشن کا نتیجہ بتائی گئی ہے جس میں ’گروپ آف فائیو‘ یعنی علی خامنہ ای اور ان کے قریبی حلقے کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔
اسرائیلی سکیورٹی حکام کے مطابق اس حوالے سے معلومات اس قدر درست تھیں کہ اسرائیل نے آخری لمحے میں حملے کے وقت میں تبدیلی کی کیونکہ اسے یہ اطلاع مل چکی تھی کہ تہران میں شام کو ہونے والی ملاقات کا وقت تبدیل ہوچکا ہے اور یہ ملاقات اب صبح کے وقت ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق ایک حیران کن فیصلے میں ایرانی قیادت نے زیرِ زمین محفوظ بنکروں میں منتقل ہونے کے بجائے زمین کے اوپر بنی رہائش گاہ میں ملاقات کی حالانکہ خطے میں امریکی فوجی نقل و حرکت میں اضافہ ہو چکا تھا اور جنگ کے واضح آثار موجود تھے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملے میں جہاں سپریم لیڈر ہلاک ہوگئے وہیں ان کے صاحبزادے اور جانشین مجتبیٰ خامنہ ای بال بال بچ گئے۔
مجتبیٰ خامنہ ای اسی کمپلیکس میں موجود تھے مگر میزائل حملے سے چند لمحے قبل ملحقہ باغ میں چلے گئے تھے۔
اگرچہ مجتبیٰ خامنہ ای یا اس حملے میں شدید زخمی ہوئے اور اطلاعات کے مطابق دھماکے میں ان کی اہلیہ اور بیٹی جاں بحق ہوگئیں تاہم باہر نکلنے کا یہی مختصر لمحہ ان کی زندگی بچانے کا سبب بنا۔