سی پیک کی افغانستان تک توسیع سے امیدیں روشن، سرحدی بندش سے پاک افغان تجارت شدید متاثر

ریاض حسین

اسلام آباد/پشاور: پاکستان کے دفترِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان، چین اور افغانستان نے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو افغانستان تک بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے، جسے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے تحت علاقائی رابطے، تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ایک غیر رسمی سہ فریقی ملاقات کے دوران کیا گیا، جس میں علاقائی امن و استحکام، تجارت، ٹرانزٹ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور خطے میں رابطوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا، “ہم نے خطے میں کاروبار، رابطے اور ترقی کے فروغ کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے اور سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق کیا ہے۔”
اگرچہ پالیسی سطح پر اس اعلان کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، تاہم تاجروں اور سرحدی اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اب بھی تشویشناک ہیں کیونکہ پاک افغان تجارتی راستے گزشتہ ساڑھے تین ماہ سے بند ہیں۔ سینئر صحافی اور افغان امور کے ماہر حق نواز خان نے سی پیک کی توسیع کو “مثبت پیش رفت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ معطل ہے۔ ان کا کہنا تھا، “چین کے پاکستان اور افغانستان دونوں میں واضح اسٹریٹجک اور اقتصادی مفادات ہیں اور وہ اسی کے مطابق اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہے۔” انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے سیکیورٹی سے متعلق ضمانتیں طلب کی ہیں جبکہ افغانستان نے مستقبل میں تجارتی راستے بند نہ کرنے کی یقین دہانی مانگی ہے۔
سرحدی علاقوں میں اس بندش کے اثرات انتہائی سنگین بتائے جا رہے ہیں۔ افغانستان بارڈر کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر مجیب الرحمان کے مطابق صرف کسٹم کلیئرنگ کے شعبے سے وابستہ تین ہزار سے زائد افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا، “اس کے علاوہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، ٹیکسی ڈرائیورز، گاڑیوں کے مالکان اور دیگر کاروباری طبقہ بھی شدید مشکلات کا شکار ہے۔” ان کے مطابق ضلع خیبر کے بیشتر مکینوں کا روزگار براہِ راست طورخم تجارت سے منسلک ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ سرحدی بندش کے باعث درآمدات و برآمدات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایک تاجر کے مطابق پاکستان سے افغانستان اور وسطی ایشیا کو تعمیراتی سامان، سبزیاں اور پھل برآمد کیے جاتے تھے جبکہ افغانستان سے خشک اور تازہ میوہ جات پاکستان آتے تھے۔ پشاور فروٹ منڈی کے تاجر مشتاق احمد نورانی نے بتایا، “پہلے روزانہ تقریباً 500 گاڑیاں مالٹا، کینو اور آلو لے کر افغانستان اور وسطی ایشیا جاتی تھیں، لیکن اب منڈی ویران نظر آتی ہے اور صرف مقامی سطح پر محدود تجارت ہو رہی ہے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ پنجاب میں کینو کا سیزن عروج پر ہے اور کسانوں کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ سمگلنگ رکنے کے باعث بعض اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 100 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی ہے، جس سے گوشت اور دیگر خوراکی اشیا نسبتاً سستی ہو گئی ہیں۔ تاہم حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر مہاجرین کے خلاف آپریشن بھی شروع کر دیا ہے۔
سی پیک کی افغانستان تک توسیع کا اعلان اگست 2025 میں کابل میں ہونے والے چھٹے سہ فریقی وزرائے خارجہ ڈائیلاگ کے دوران کیا گیا تھا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام افغانستان کی اقتصادی بحالی اور پاک چین تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے، تاہم تاجروں کا کہنا ہے کہ حقیقی معاشی ریلیف کے لیے سرحدی تجارت کی بلا تعطل بحالی ناگزیر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے