کور کمانڈر بریفنگ کے بعد: کیا کے پی حکومت ایک پیج پر آ جائے گی؟

خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال اور قیامِ امن کے طریقہ کار پر وفاقی حکومت، پاک فوج اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔ وفاقی حکومت اور عسکری قیادت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے طاقت کے استعمال اور آپریشن کو ناگزیر قرار دے رہی ہیں، جبکہ صوبائی حکومت مذاکرات، جرگوں اور پرامن حل کی حامی ہے۔

اسی تناظر میں صوبائی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے سیکیورٹی نے آئی جی خیبر پختونخوا، چیف سیکرٹری اور دیگر اعلیٰ حکام کو سننے کے بعد خلاف روایت کور کمانڈر پشاور کو ان کیمرہ بریفنگ کے لیے طلب کرنے کا مراسلہ جاری کر دیا ہے۔ کمیٹی نے دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ کے لیے باہمی طور پر موزوں تاریخ اور وقت کی درخواست کی ہے۔

کمیٹی کا مؤقف ہے کہ پاک فوج اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے امن و امان کے قیام اور مؤثر پالیسی سازی میں مدد ملے گی۔ تاہم ماہرین کے مطابق اصولی طور پر صوبائی حکومت یا اسمبلی کو وفاق کے ماتحت اداروں کے سربراہان سے براہِ راست رابطے کے بجائے وفاقی حکومت اور وزارت دفاع کے ذریعے جی ایچ کیو سے رجوع کرنا چاہیے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت اور عسکری قیادت کی پالیسی واضح ہے، جس پر تیراہ سمیت دیگر علاقوں میں عملدرآمد بھی دیکھا جا رہا ہے اور اس دائرہ کار میں مزید توسیع کے امکانات موجود ہیں۔ یہ پالیسی نئی نہیں بلکہ ماضی میں بھی مختلف ادوار میں اپنائی جاتی رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف اختلافی بیانات اور مخالفت سے دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے کا حل ممکن نہیں۔ تمام فریقین کو قومی مفاد میں مثبت اور مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی، کیونکہ سیکیورٹی معاملات پر سیاسی تقسیم قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے