خیبر پختونخوا کی جیلوں میں قیدیوں کی بھرمار، طبی سہولیات کی کمی سے صحت کا بحران سنگین
پشاور: خیبر پختونخوا کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی کے ساتھ طبی سہولیات کی مبینہ کمی نے اسیران کی صحت کے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس پر پبلک انٹرسٹ میں پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا گیا ہے۔
شبیر حسین گیگیانی کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی رٹ پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبے کی مختلف جیلوں میں قیدیوں کو مناسب علاج، طبی تشخیص اور ضروری ادویات کی بروقت فراہمی نہیں ہو رہی، جس کے باعث متعدد قیدی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔
رٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بروقت علاج اور طبی سہولیات میسر نہ ہونے کے باعث سنٹرل جیل پشاور میں فضل الرحمن اور ظاہر شاہ نامی دو قیدیوں کی بھی موت واقع ہوئی۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اگر ہر جیل میں مختلف امراض کے ماہر ڈاکٹروں کی مستقل تعیناتی ممکن نہیں تو جیلوں کے قریب واقع سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ماہر ڈاکٹرز کو ہر 15 روز بعد جیلوں میں او پی ڈی لگانے کا پابند کیا جائے، تاکہ قیدیوں کا طبی معائنہ، بیماریوں کی تشخیص اور علاج بروقت ممکن ہو اور انہیں ضروری ادویات بھی فراہم کی جا سکیں۔
رٹ میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ ہر جیل کے قریب واقع سرکاری ہسپتال میں ایک میڈیکو لیگل وارڈ مختص کیا جائے، جسے جیل کا ذیلی وارڈ تصور کیا جائے۔ ایسے قیدی جن کے ٹیسٹ، آپریشن یا دیگر طبی سہولیات جیل کے اندر ممکن نہ ہوں، انہیں پولیس سیکیورٹی میں اس وارڈ میں داخل کرکے علاج فراہم کیا جائے۔
درخواست میں عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کے علاج معالجے کے لیے مختص بجٹ، اس کے استعمال کی تفصیلات اور آڈٹ رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا کی 39 جیلوں میں 11,382 قیدی موجود ہیں، جن میں سے صرف تقریباً 2,000 سزا یافتہ ہیں، جبکہ بڑی تعداد ایسے قیدیوں کی ہے جو اپنے مقدمات کے فیصلوں کے منتظر ہیں۔
قیدیوں کی بڑھتی تعداد کے باعث جیلوں میں رہائش کے ساتھ ساتھ صحت، صفائی اور دیگر بنیادی سہولیات پر بھی اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (NCHR) کی جیلوں سے متعلق رپورٹ میں بھی پاکستان کے جیل نظام میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں، ناکافی بنیادی سہولیات اور طبی سہولیات کی کمی کو اہم مسائل قرار دیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کی جیلوں سے متعلق 2024 میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مطالعے میں بھی صوبے کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی۔ مطالعے کے مطابق جیلیں اپنی مقررہ گنجائش سے تقریباً 65 فیصد زیادہ قیدیوں کا بوجھ اٹھا رہی تھیں۔
تحقیق میں جیلوں میں بڑھتی ہوئی بھیڑ کم کرنے، اضافی سہولیات فراہم کرنے اور قیدیوں کی تعداد کم کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔
درخواست میں صوبائی حکومت، محکمہ صحت اور متعلقہ جیل حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کی جیلوں میں قیدیوں کی بھرمار، طبی سہولیات کی کمی سے صحت کا بحران سنگین