اگر وینزویلا کے صدر پر مقدمہ ممکن ہے تو اسرائیلی قیادت کی گرفتاری کیوں ناممکن؟




دنیا بھر میں انسانی حقوق اور عالمی انصاف کے دعووں کے باوجود، طاقت اور قانون کے درمیان بڑھتا ہوا تضاد ایک بار پھر عالمی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ کے ایک رکن کی جانب سے اٹھایا گیا حالیہ سوال عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے مترادف ہے: اگر امریکہ وینزویلا کے صدر کو گرفتار کرنے یا عدالت میں لانے کا دعویٰ کر سکتا ہے، تو اسرائیلی قیادت کو مبینہ جنگی جرائم پر جواب دہ بنانا کیوں ناممکن سمجھا جاتا ہے؟
سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ سوال محض ایک بیان نہیں بلکہ موجودہ عالمی نظامِ انصاف پر فردِ جرم ہے، جہاں قانون کا اطلاق اکثر کمزور ممالک اور غیر اتحادی ریاستوں تک محدود نظر آتا ہے، جبکہ طاقتور ممالک اور ان کے اتحادی احتساب سے بچ نکلتے ہیں۔
غزہ میں جاری جنگ، شہری آبادی پر حملے، تباہ شدہ اسپتالوں اور اسکولوں، اور بچوں کی ہلاکتوں نے دنیا بھر میں شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے۔ لندن، پیرس، نیویارک، برلن اور استنبول سمیت کئی بڑے شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں، جہاں عوام عالمی اداروں کی خاموشی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق مسئلہ یہ نہیں کہ انسانیت کی آواز بلند نہیں ہو رہی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عالمی طاقتیں سننے کو تیار ہیں؟
ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی نظام یہ تاثر دے رہا ہے کہ بین الاقوامی قانون طاقتوروں کے مفاد کے مطابق استعمال ہو رہا ہے۔ افریقی ممالک کے رہنماؤں کو بین الاقوامی عدالتوں میں طلب کیا جا سکتا ہے، روس، ایران یا وینزویلا پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں، مگر غزہ میں شہری ہلاکتوں پر مؤثر قانونی کارروائی کیوں نظر نہیں آتی؟
امریکہ، جو خود کو جمہوریت اور انسانی حقوق کا علمبردار قرار دیتا ہے، اسرائیل کے حق میں اقوام متحدہ میں بار بار ویٹو استعمال کرتا رہا ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق اس رویے نے عالمی اداروں کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہی تضاد اقوام متحدہ کو غیر مؤثر اور بین الاقوامی قانون کو متنازع بنا رہا ہے۔
زرغون تحریک (Green Movement) کے چیئرمین انجینئر عبدالولی یوسفزئی نے ایک تحریری مؤقف میں کہا ہے کہ انسانی جان کی کوئی قومیت نہیں ہوتی اور جنگی جرم، جرم ہی ہوتا ہے، چاہے اس کا مرتکب کوئی بھی ہو۔ تحریک نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں ہونے والے واقعات کی آزاد عدالتی تحقیقات کی جائیں اور عالمی ادارے سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر اپنا کردار ادا کریں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر عالمی برادری نے دوہرے معیار کو ترک نہ کیا تو نہ صرف انصاف کا تصور کمزور ہوگا بلکہ مستقبل میں کوئی بھی قوم خود کو محفوظ محسوس نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق تاریخ گواہ ہے کہ طاقت وقتی طور پر بچ سکتی ہے، مگر بالآخر فیصلہ انصاف اور عوامی ضمیر ہی کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے