ایران میں مہنگائی اور مالی بحران کے خلاف احتجاجات: صدر پزشکیان کا غیر معمولی اعتراف
ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، کرنسی کی قدر میں تاریخی کمی اور بے روزگاری کے خلاف ملک بھر میں احتجاجات شدت اختیار کر گئے ہیں، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک غیر معمولی اور تاریخی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی ناراضگی اور مشکلات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ امریکا یا کسی بیرونی طاقت پر۔
صدر پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ عوام کے مسائل ناقص انتظام اور حکومتی ناکامیوں کا نتیجہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے وسائل کا صحیح استعمال اور عوام کے بنیادی مسائل حل کرنا حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، جس میں فی الحال کوتاہی دیکھی گئی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو مظاہروں کو محض احتجاج کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ عوام کے خدشات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات کرنا ہوں گے۔ صدر نے واضح کیا کہ بیرونی طاقتوں کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے ایران کو اپنی پالیسیوں اور انتظامی کمزوریوں کا جائزہ لینا ہوگا۔
احتجاجات کی شدت:
ایران کے مختلف شہروں میں گزشتہ پانچ روز سے مظاہرے جاری ہیں۔ مظاہرین مہنگائی، کرنسی کی گراوٹ اور بے روزگاری کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہیں، اور بعض شہروں میں انہوں نے سرکاری عمارتوں پر دھاوا بھی بولا۔ ایرانی سیکیورٹی فورسز نے ہنگامہ آرائی میں ملوث کم از کم 30 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران عالمی معاشی پابندیوں اور علاقائی کشیدگی کے باعث شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ ایرانی ریال کی قدر کم ہو کر تقریباً 14 لاکھ ریال فی امریکی ڈالر تک گر گئی ہے، جسے ماہرین معیشت ریال کی تاریخ کی بدترین سطح قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ کرنسی کی اتنی تیز گراوٹ نے مہنگائی کو بے قابو کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی مظاہرے مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں اگر فوری معاشی اصلاحات اور عوامی ریلیف کے اقدامات نہ کیے گئے۔
صدر پزشکیان نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر عوامی ریلیف کے لیے عملی اقدامات کرے، تاکہ معاشی بحران کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور عوام کی بھروسہ بحال ہو۔
حالیہ مظاہروں اور اقتصادی بحران کی وجوہات:
- ریال کی تاریخی گراوٹ
- عالمی معاشی پابندیاں
- مقامی انتظامی کمزوریاں اور ناقص پالیسیز
- بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری
- عوامی ریلیف پروگرامز کی عدم دستیابی
اگر حکومت فوری اصلاحی اقدامات اور مالی امدادی اقدامات کرے تو مظاہروں کی شدت میں کمی آ سکتی ہے، ورنہ صورتحال مزید تشویشناک ہو سکتی ہے۔