پاکستان میں غربت کی شرح 25 فیصد سے تجاوز کر گئی، ورلڈ بینک کی وارننگ

ریاض حسین

پاکستان میں غربت کی شرح 25 فیصد سے بڑھ گئی ہے۔ ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور جامع اصلاحات نہ کی گئیں تو لاکھوں گھرانے مزید غربت کی دلدل میں دھنس سکتے ہیں۔

یہ رپورٹ ”ریکلیمِنگ مومینٹم ٹوارڈز پراسپیریٹی: پاکستان کی غربت، مساوات اور لچک کا جائزہ“ کے عنوان سے جاری کی گئی ہے جو گزشتہ دو دہائیوں میں پہلی بار غربت اور فلاح و بہبود کا تفصیلی جائزہ پیش کرتی ہے۔ گھریلو سروے، انتظامی ریکارڈز اور مکانی تجزیوں پر مبنی رپورٹ کے مطابق 2001-02 میں 64.3 فیصد پر موجود غربت کی شرح 2018-19 میں کم ہو کر 21.9 فیصد رہ گئی تھی، تاہم اب دوبارہ بڑھ کر 2024-25 میں 25.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

ورلڈ بینک نے اس کیفیت کو متعدد بحرانوں کا نتیجہ قرار دیا ہے جن میں کووِڈ-19 وبا، مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ، 2022 کے تباہ کن سیلاب اور معاشی عدم استحکام شامل ہیں۔ صرف تین برسوں میں غربت 7 فیصد بڑھ گئی، جو 2021-22 میں 18.3 فیصد سے بڑھ کر 2022-23 میں 24.8 فیصد اور پھر 2023-24 میں 25.3 فیصد تک جا پہنچی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں غربت میں کمی زیادہ تر زرعی شعبے سے سروس سیکٹر کی ملازمتوں کی طرف منتقلی سے ممکن ہوئی تھی، تاہم پاکستان کی معاشی تبدیلی غیر متوازن رہی ہے۔ روزگار کے مواقع محدود ہیں، پیداوار کمزور ہے اور معیشت میں تنوع کی کمی ہے۔ غیر رسمی ملازمتیں اب بھی لیبر مارکیٹ پر غالب ہیں، جو 85 فیصد سے زائد ہیں، جبکہ خواتین اور نوجوان بڑی حد تک ورک فورس سے باہر ہیں۔ 2011 سے 2021 تک غریب طبقے سے منسلک شعبوں میں اجرتوں میں حقیقی اضافہ صرف 2 سے 3 فیصد رہا۔

معاشرتی مسائل نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ تقریباً 40 فیصد بچے غذائی کمی کے باعث نشوونما میں رکاوٹ کا شکار ہیں، ہر چار میں سے ایک بچہ اسکول سے باہر ہے جبکہ پرائمری درجے کے 75 فیصد بچے ایک آسان کہانی بھی نہیں پڑھ سکتے۔ دیہی غربت 28.2 فیصد ہے جو شہری غربت (10.9 فیصد) سے دگنی ہے، جبکہ بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جہاں غربت کی شرح 42.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے دس سب سے زیادہ موسمیاتی خطرات کے شکار ممالک میں شامل ہے، حالانکہ اس کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ صرف 2022 کے سیلاب نے قومی پیداوار میں 2.2 فیصد کمی کر دی، جس کا سب سے زیادہ نقصان غریب طبقے کو اٹھانا پڑا۔

ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر ناجر بن حسینہ نے زور دیا کہ پاکستان کو اپنی مشکل سے حاصل کردہ کامیابیوں کو محفوظ بنانے کے لیے لوگوں پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی، نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے ہوں گے، اقتصادی جھٹکوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرنی ہوگی اور گورننس کو بہتر بنانا ہوگا۔

ورلڈ بینک نے غربت کے چکر کو توڑنے کے لیے چار بڑے راستے تجویز کیے ہیں:

  1. انسانی وسائل اور بنیادی سہولتوں (تعلیم، صحت، پانی اور رہائش) میں سرمایہ کاری۔
  2. سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط اور جامع بنانا۔
  3. مالیاتی اصلاحات کے ذریعے وسائل کی مؤثر تقسیم اور سبسڈی کے ضیاع کا خاتمہ۔
  4. درست اعداد و شمار پر مبنی پالیسی سازی کے لیے مضبوط ڈیٹا سسٹمز قائم کرنا۔

رپورٹ کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو لاکھوں گھرانے دوبارہ غربت میں گر سکتے ہیں، جس سے پاکستان کی طویل المدتی ترقی اور استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے