خیبرپختونخوا: امتحانی بورڈز میں تعیناتیوں کیلئے نئی پالیسی، وزیر اعلیٰ کے اختیارات محدود

خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے امتحانی بورڈز میں چیئرمین، کنٹرولر اور سیکرٹری جیسی آسامیوں پر تعیناتی کے لیے پہلی مرتبہ باقاعدہ پالیسی متعارف کرا دی۔ نئی پالیسی کے تحت انکوائری کی زد میں آیا افسر ان عہدوں کے لیے نااہل ہو گا۔

صوبے کے آٹھ امتحانی بورڈز میں اب تک ان اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیاں وزیر اعلیٰ کی صوابدید پر ہوتی رہیں، تاہم اب پہلی مرتبہ ایک موثر پالیسی تشکیل دی گئی ہے جس کے تحت شارٹ لسٹنگ اور انٹرویو کی نگرانی کے لیے سات رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کے چیئرمین وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ہوں گے۔

کمیٹی کے دیگر ارکان میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ، سیکرٹری ابتدائی تعلیم، سیکرٹری اعلیٰ تعلیم، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ، چیئرمین پبلک سروس کمیشن اور کسی بھی یونیورسٹی کے وائس چانسلر یا نامور ماہر تعلیم شامل ہوں گے۔

پالیسی کے مطابق شارٹ لسٹنگ اور انٹرویو کے بعد ہر عہدے کے لیے تین امیدواروں کے نام وزیر اعلیٰ کو ارسال کئے جائیں گے جن میں سے وہ کسی ایک امیدوار کی تعیناتی کریں گے۔ ماضی میں بھی تعیناتیوں کا یہی عمل موجود تھا تاہم وہ محض رسمی نوعیت کا تھا بلکہ حکومت اپنی مرضی کے افیسرز کی تعیناتی کرتی تھی لیکن اس پالیسی سے وزیر اعلی کے اختیارات محدود ہوگئے۔

نئی پالیسی کے تحت افسران کو مختلف پہلوؤں سے جانچا جائے گا۔ چیئرمین امتحانی بورڈ کی شارٹ لسٹنگ کے لیے 60 نمبرز مختص کیے گئے ہیں، پی ایچ ڈی ڈگری کے لیے 15، ایم فل 14، جبکہ ماسٹر ڈگری کے لیے 13 نمبرز رکھے گئے ہیں۔ پیشہ ورانہ تجربے کے لیے 20 نمبرز مختص ہیں، اور کم از کم 20 سالہ سروس ضروری، تاہم ساتھ ساتھ 10 سالہ انتظامی تجربہ لازمی ہو گا۔ متعلقہ تربیتی کورسز کے 5 اور سابقہ کیریئر کارکردگی کے لئے 20 نمبرز رکھے گئے ہیں۔
اسی طرح چیئرمین کے انٹرویو کے لیے کمیٹی کو 40 نمبرز دینے کا اختیار حاصل ہو گا، لیڈرشپ اور اسٹریٹجک وژن، گورننس و ایڈمنسٹریشن، ٹیکنیکل تجربہ، کمیونیکیشن اور انٹرپرسنل اسکلز، نیز مسائل کے حل اور ندرت و تخلیقیت کے لیے علیحدہ علیحدہ 8 نمبرز مختص کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب امتحانی بورڈ کے سیکرٹری اور کنٹرولر کی شارٹ لسٹنگ کے لیے 60 نمبرز رکھے گئے ہیں، پی ایچ ڈی کے لئے 15، ایم فل 14، ماسٹر ڈگری 13، پروفیشنل تجربے کے لئے 15 سے 20 نمبرز، جبکہ کم از کم پانچ سالہ انتظامی تجربہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ متعلقہ تربیتی کورسز کے 5، ملازمت کی سابقہ کارکردگی کے 20 اور انٹرویو کے 40 نمبرز مقرر کیے گئے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق نئی پالیسی کے تحت پہلی مرتبہ امیدواروں کی باقاعدہ شارٹ لسٹنگ کی گئی ہے اور انٹرویوز کا عمل جاری ہے جو یکم جنوری 2026 کو مکمل کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق نئی پالیسی سے جہاں ایک جانب وزیر اعلیٰ کے اختیارات محدود کر دیئے گئے تو وہیں دوسری جانب شفافیت کو فروغ بھی ملے گا۔ اب ہر اس نئے معیار پر پورا اترنے والا ہر افسر ان عہدوں کے لیے اہل سمجھا جائے گا۔ تاہم، کمیٹی کے مجوزہ تین امیدواروں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار بدستور وزیر اعلیٰ کے پاس موجود رہے گا۔

رابطہ کرنے پر سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد خالد نے بتایا کہ ایبٹ اباد اور ملاکنڈ بورڈ کے چیئرمین، پشاور بورڈ سمیت تین سیکرٹریز اور دو سے تین کنٹرولر کی پوسٹیں مشتہر کی ہے اور ہر ایک کیلئے بیس سے زائد امیدواروں نے اپلائی کیا ہے۔

سیکرٹری محمد خالد کے مطابق کمیٹی کی جانب سے تین امیدواروں کے پینل میں وزیر اعلی کسی بھی امیدوار کو تعینات کرسکتا ہے بلکہ وہ ان کا دوبارہ انٹرویو بھی کرسکتے ہیں۔ دوسری جانب یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تعیناتی کیلئے وزیر اعلی کو جو پینل ارسال کیا جاتا ہے تو اس میں پہلے نمبر پر انے والے امیدوار کو ہی تعینات کریں گے ، ڈراپ ہونے کی صورت میں وہ وجوہات دیں گے کہ پہلے نمبر پر انے والے امیدوار کو کیوں ڈراپ کیا۔ وائس چانسلرز کی تعیناتی میں وزیر اعلی کے پاس اختیارات نہیں ہے لیکن یہاں پر وزیر اعلی کو پھر بھی پینل میں کسی بھی امیدوار کو تعینات کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے