پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں 2 ستمبر کی شام بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل) کے جلسے کے فوراً بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا، جس میں کم از کم 13 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہوئے۔
دوسری جانب، اُسی روز ضلع کیچ میں ایک اور دھماکے میں پانچ سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے۔
حکام کے مطابق، کوئٹہ میں دھماکہ شہوانی اسٹیڈیم کے قریب اُس مقام پر ہوا جہاں جلسے کے لیے آنے والی گاڑیاں کھڑی تھیں۔
بی این پی کے جلسے سے پارٹی سربراہ سردار اختر مینگل، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، عوامی نیشنل پارٹی کے اصغر خان اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے خطاب کیا تھا۔
اختر مینگل نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بتایا کہ وہ دھماکے میں محفوظ رہے، تاہم ان کے 15 کارکن جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
بی این پی کے رہنما ساجد ترین کے مطابق، دھماکے میں ان کے 13 کارکن جاں بحق ہوئے اور کئی زخمی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق دھماکہ جلسہ ختم ہونے کے تقریباً 15 منٹ بعد ہوا۔
بلوچستان محکمہ داخلہ نے رات گئے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی اور کئی سیاسی رہنماؤں نے دھماکے کی مذمت کی ہے۔
کیچ دھماکہ
اسی روز 2 ستمبر کو بلوچستان کے ضلع کیچ میں ایک اور دھماکے میں پانچ سیکیورٹی اہلکار جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے۔ بتایا گیا ہے کہ فرنٹیئر کور کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس سے یہ جانی نقصان ہوا۔