مردان میں کسان کنونشن؛ جدید ہائبرڈ بیجوں سے خیبر پختونخوا میں مکئی کی پیداوار میں 10 لاکھ ٹن اضافہ

ریاض حسین

تحصیل تخت بھائی میں ایک روزہ ’’کسان کنونشن‘‘ منعقد ہوا، جس کا مقصد کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی، جدید بیجوں کا فروغ اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے آگاہی فراہم کرنا تھا۔ کنونشن میں زرغون کارپوریشن اور پیٹل سیڈز کمپنی نے معاونت کی، جبکہ زرعی ماہرین، کسانوں، کاروباری نمائندوں اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

پیٹل سیڈز کمپنی کے سربراہ مشتاق احمد نے اپنے خطاب میں بتایا کہ خیبر پختونخوا میں ہائبرڈ بیجوں کے استعمال سے مکئی کی فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

“صوبے میں فی ایکڑ مکئی کی پیداوار میں اوسطاً پانچ من اضافہ ہوا ہے، جس سے مجموعی پیداوار میں تقریباً دس لاکھ ٹن کا اضافہ ریکارڈ ہوا۔ اب وقت آگیا ہے کہ کسان جدید بیجوں کی طرف منتقل ہوں تاکہ بہتر اور زیادہ منافع بخش نتائج حاصل کیے جاسکیں۔”

تقریب میں ہائبرڈ مکئی کے بیجوں کی نمائش بھی کی گئی اور شرکاء میں بیجوں کے نمونے تقسیم کیے گئے تاکہ وہ تجرباتی کاشت کے ذریعے نتائج کا موازنہ کرسکیں۔

کاشتکاروں کے نمائندہ نے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ محنت کی کمی نہیں، سہولیات کی کمی اصل رکاوٹ ہے:

“کسان پوری محنت کرتے ہیں، مگر انہیں معیاری بیج، کھاد اور زرعی ادویات بروقت نہیں ملتیں۔ اگر سہولیات وقت پر فراہم ہوں تو پیداوار میں کمی کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔”

زرعی ماہرین نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی فصلوں کے لیے بڑا خطرہ بنتی جارہی ہے، اس لیے ایسے بیج متعارف کرانا ضروری ہے جو گرمی، بارشوں اور خشک سالی کا مقابلہ کرسکیں۔

زرعی یونیورسٹی پشاور کے وائس چانسلر ڈاکٹر بخت جہان نے خطاب کرتے ہوئے کہا:

“پاکستان کی 38 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے اور 18 فیصد لوگ بنیادی خوراک سے محروم ہیں۔ ہمیں آنے والی نسلوں کے لیے ایسا زرعی نظام تیار کرنا ہوگا جو موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرسکے۔ یہ حکومت، اداروں، کمپنیوں اور عوام سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔”

پروگرام کے مہمانِ خصوصی ملتان زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر آصف علی شاہ تھے۔ انہوں نے کہا:

“جدید دور جدید تقاضے رکھتا ہے اور اس دور میں تحقیق ناگزیر ہے۔ نجی شعبے کی شراکت بڑھانا ضروری ہے، کیونکہ جب کمپنیاں نئے بیج متعارف کراتی ہیں تو پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے اور کسانوں کے ساتھ حکومت بھی معاشی طور پر مستحکم ہوتی ہے۔”

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ:

خیبر پختونخوا کی 52 فیصد زراعت بارانی زمینوں پر جبکہ 48 فیصد نہری آبپاشی پر منحصر ہے۔

صوبہ ہر سال 7.5 ارب روپے خوراک کی مد میں خرچ کرتا ہے۔

اس کے باوجود صوبہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے 3.8 ملین ٹن گندم پنجاب سے درآمد کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے