دیوار چین کی مانند پاکستان میں بھی تاریخ بیان کرتی سندھ کی عظیم دیوار موجود ہے، جس کی حالت شکست و ریخت کا شکار ہونے کی وجہ سے انتہائی خراب بلکہ مٹنے کے قریب ہو چکی ہے لیکن اس کی موجود خدوخال بتاتے ہیں کہ یہ کسی زمانے میں اپنی مثال آپ تھی۔ کراچی سے تقریباً 300 کلومیٹر کی دوری پر ضلع جامشورو کے پہاڑی صحرا میں موجود رانی کوٹ جسے سندھ کی عظیم دیوار بھی کہا جاتا ہے، جامشورو شہر سے لگ بھگ 120 کلومیٹر نیچے واقع ہے، جس کے قریب قریب دیگر تاریخی مقامات بھی موجود ہیں، تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ رانی کوٹ قلعہ کسی زمانے میں دنیا کا سب سے بڑا قلعہ ہوا کرتا تھا، اس کی وسعت کا انداز اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے اندر مزید دو قلعے بھی تھے، جو خاص اہمیت رکھتے تھے، مرکزی رانی کوٹ قلعہ شاید آج بھی رقبہ کے لحاظ سے بڑا ہی ہو لیکن حالت بس خدوخال تک باقی رہ گئی ہے۔ اس تاریخی قلعے کا احاطہ تقریباً 32 کلومیٹر ہے، قلعے کی فصیلوں کا موازنہ چین کی عظیم دیوار سے کیا گیا ہے، جس کی اونچائی چوڑائی اور لمبائی واقعی بے مثال ہے، اور اس پر بنے واچ ٹاورز بھی بتاتے ہیں کہ یہاں حفاظتی سسٹم بھی موجود تھا۔ یہ قلعہ کب، کیسے اور کیوں بنا یہ آج تک ایک بحث ہی ہے اور اس کی وجوہات پر آج تک ماہرین کا اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔ بعض مؤرخین کا ماننا ہے کہ رانی کوٹ قلعہ ساسانیوں کے دور کا قلعہ ہے، چند ماہرین اسے یونانیوں کی طرزِ تعمیر سے مشابہہ قرار دیتے ہیں جب کہ کچھ کا خیال ہے کہ سندھ کی عظیم دیوار والا یہ قلعہ 836 ہجری میں عرب گورنر عمران بن موسیٰ نے تعمیر کروایا جبکہ بعض کا ماننا ہے کہ قلعے کو تالپر حکمرانوں نے 1812ء میں بنوایا تھا۔ اس حوالے سے سب سے پہلا تذکرہ مشہور انگریز سیاح الیگزینڈر برنس نے کیا تھا جو 1831ء کو رانی کوٹ سے گزرے۔ ماہرین آثار قدیمہ اس کی پہلی تعمیر کے وقت کے طور پر 17 ویں صدی کی طرف بھی اشارہ کرتے رہے ہیں، ریڈیو کاربن ٹیسٹ سان گیٹ پر قلعہ کے مشرقی دروازے کے گرے ہوئے ستون کے مارٹر میں لگے کوئلے پر کیے گئے، جس سے تصدیق ہوئی ہے کہ اس دروازے کی تزئین و آرائش غالباً 18ویں صدی کے اوائل اور 19ویں صدی کے اوائل کے درمیان کی گئی تھی، اس سے پہلے کہ برطانیہ نے اس قلعے پر حملہ کیا جب کلہوڑ، یا غالباً سندھ کے تالپور میروں نے اس علاقے پر حکومت کی۔ آج تو معاملات اس سے بالکل ہی مختلف ہیں، کہ کیسے، کیوں اور کن حالات میں یہ تعمیر ہوا بلکہ اب تو یہ سوچنا ہے کہ کیسے، کیوں اور کیوںکر اس قلعے کو دوبارہ سے تحفظ دے کر اس کی بچی کھچی باقیات کو محفوظ کیا جا سکے، اس تاریخ بیان کرتی سندھ کی عظیم دیوار یا اسے رانی کوٹ قلعہ ہی کہہ لیں پر متعدد محققین نے اپنے مقالے لکھے، تجربات ہوئے، اور تحقیقات ہوئیں لیکن سب اس بات پر متفق پائے گئے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا قلعہ شمار ہوتا ہے، آج بھی اس کی باقیات سے اندازہ لگایا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ واقعی ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ رانی کوٹ پر تحقیق کرنے والے بدر ابڑو اپنی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ قلعے کی تعمیر کسی ایک وقت میں مکمل نہیں ہوئی ہوگی، بلکہ اس قلعے کی تعمیر ایک سے زائد حکمرانوں کے ادوار میں ہوئی ہوگی، کیونکہ اس کے در و دیوار اس قدر مضبوط اور بڑے ہیں کہ آسانی سے اس دیوار پر موٹر سائیکل چلائی جا سکتی ہے، اسے دیکھ کر یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ قلعے کی حفاظتی فصیل کس قدر مشکل سے بنائی گئِی ہوگی۔ رنی کوٹ کے نام سے مشہور اس عظیم دیوارِ سندھ کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس قلعے کے اندر میری اور شیر گڑھ کوٹ کے نام سے مزید 2 چھوٹے قلعے ہیں جو اس کو دنیا کے منفرد اور عظیم قلعے کی حیثیت دیتے ہیں، جسے دیکھنے دنیا بھر کے سیاح آتے رہے ہیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ نت نئے قصے کہانیاں اس سے منصوب بتائی جاتی رہی ہیں۔ رانی کوٹ کی دیواریں نہ صرف زمین بلکہ پہاڑوں پر بھی بنی ہوئی ہیں اور مجموعی طور پر یہ دیواریں 30 کلومیٹر کے دائرے کو محفوظ بناتی تھیں، اتنے بڑے رقبے پر پھیلی ہوئی اس دیوار پر کم و بیش 18 واچ ٹاورز بھی ہیں، جن سے متعلق مؤرخین کا کہنا ہے کہ یہ ٹاورز کسی زمانے میں جنگ اور حفاظت کے لیے استعمال ہوتے تھے، تاہم اس حوالے سے بھی کوئی مستند تاریخ موجود نہیں۔ اس حوالے سے یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ یہ ایک ایسا قلعہ ہے جو ایک اندازے کے مطابق 300 سال پرانا ہے، اس کی سیر نہ صرف ایک تفریح کی غرض سے کی جانی چاہئے بلکہ اسے دیکھ کر تاریخ کے ان بند اوراق کو پلٹنے کی ضرورت ہے جو یہاں کے حالات، موسم اور زمینی صورتحال بیان کریں۔
سندھ؛ رانی کوٹ دنیا کا سب سے بڑا قلعہ مٹنے کے قریب