بیوریجز انڈسٹریز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا نے صوبائی فوڈ اتھارٹی کے مبینہ غیر شفاف اور جانبدارانہ اقدامات کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال بہتر نہ ہوئی تو تمام آپریشن پنجاب منتقل کر دیے جائیں گے۔
پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے صدر فیصل شاہ صافی نے کہا کہ فوڈ اتھارٹی کے بعض افسران کی ملی بھگت سے صوبے کی بیوریج انڈسٹری کو نقصان پہنچانے کی منظم سازش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ فوڈ اتھارٹی نے مختلف کمپنیوں کے پانی کے نمونے غیر تسلیم شدہ لیبارٹری میں ٹیسٹ کرائے اور ان کی بنیاد پر بعض برانڈز کو "غیر معیاری” قرار دیا، حالانکہ بعد ازاں انہی نمونوں کے PCSIR سے تصدیق شدہ نتائج میں پانی مکمل طور پر محفوظ اور معیار کے مطابق ثابت ہوا۔
فیصل شاہ صافی نے کہا کہ پشاور اور خیبر پختونخوا کا پانی اپنی قدرتی صفائی اور اعلیٰ معیار کے باعث پورے ملک میں پسند کیا جاتا ہے، مگر فوڈ اتھارٹی کے غیر شفاف اقدامات سے انڈسٹری کو بدنام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت نے پانچ سالہ خصوصی انڈسٹریل پیکج کی پیشکش کی ہے، اور اگر خیبر پختونخوا حکومت نے فوری نوٹس نہ لیا تو بیوریجز انڈسٹری کو پنجاب منتقل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ "یہ صورتحال نہ صرف صوبے کی معیشت بلکہ ہزاروں مزدوروں کے روزگار کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ہم حکومت سے تعاون کے لیے تیار ہیں مگر غیر منصفانہ سلوک ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔”
فیصل شاہ صافی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، چیف سیکرٹری، اور وزیر خوراک سے مطالبہ کیا کہ فوڈ اتھارٹی کے غیر قانونی اقدامات کا نوٹس لیا جائے، صنعت دشمن رویہ ختم کیا جائے، اور مقامی صنعتوں کو ہراسانی سے محفوظ بنایا جائے۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو انڈسٹری متحد ہو کر پرامن احتجاج کرے گی اور ممکنہ طور پر اپنا آپریشن پنجاب منتقل کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔