خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں ایک ہی رات میں دہشت گرد حملوں میں 5 پولیس اہلکار شہید

رپورٹ (CBN247)

پشاور / خیبر / باجوڑ — خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں ایک ہی رات دہشت گردوں نے بیک وقت حملے کیے، جن میں کم از کم 5 پولیس اہلکار شہید اور اتنے ہی زخمی ہوگئے۔

پولیس حکام کے مطابق نامعلوم دہشت گردوں نے اپر دیر، لوئر دیر، پشاور اور خیبر کی جمرود تحصیل میں پولیس کو نشانہ بنایا۔ اپر دیر میں ایک پولیس وین پر فائرنگ کی گئی، جس میں 3 اہلکار موقع پر شہید اور 3 زخمی ہوئے۔ پشاور کے حسن خیل علاقے میں پولیس اسٹیشن پر حملے میں ایک اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوا۔ لوئر دیر کے لجبوک علاقے میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر فائرنگ سے ایک اہلکار جان کی بازی ہار گیا۔ تاہم، پولیس نے دو دیگر چیک پوسٹوں اور حسن خیل پولیس اسٹیشن پر مزید حملے ناکام بنا دیے۔

خیبر ضلع میں، جمرود کے سخی پل پولیس پوسٹ پر بھی حملہ ہوا، جو خیبر اور پشاور پولیس مشترکہ طور پر چلا رہے ہیں۔ پولیس نے بھرپور جوابی کارروائی کی اور وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب چند روز پہلے ہی حکام نے باجوڑ اور خیبر اضلاع میں آپریشن کرنے کا اعلان کیا تھا، کیونکہ باجوڑ امن جرگہ اور مسلح گروہوں کے درمیان بات چیت ناکام ہوگئی تھی۔ جرگہ نے علاقے سے مسلح افراد کے انخلا کا مطالبہ کیا تھا، لیکن معاہدہ نہ ہو سکا۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق باجوڑ کے ماموند تحصیل کے دو علاقوں میں تقریباً 300 جبکہ خیبر میں 350 سے زائد شدت پسند موجود ہیں۔

باجوڑ میں جاری آپریشن سر بکف نے پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔ یہ آپریشن جولائی کے آخر میں افغان سرحد کے قریب شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے شروع کیا گیا تھا، جس سے ہزاروں لوگ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 1,497 مرد، 1,552 خواتین اور 3,558 بچے سرکاری شیلٹرز میں ہیں، جبکہ 2,497 لوگ ضلع کے اسپورٹس اسٹیڈیم میں قائم عارضی کیمپوں میں مقیم ہیں۔ تقریباً 20,000 بے گھر خاندانوں کی رجسٹریشن جاری ہے۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے — اندازے کے مطابق 25,000 خاندان یعنی تقریباً ایک لاکھ لوگ لوئی ماموند، گٹ، ترکھو، ايراب اور خڑچئی جیسے دیہات سے ہجرت کرچکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر رشتہ داروں یا میزبان کمیونٹی کے پاس پناہ لیے ہوئے ہیں۔

یہ حملے اس وقت ہورہے ہیں جب ملک میں دہشت گردی کی لہر دوبارہ بڑھ رہی ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق صرف جون میں 78 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں کم از کم 100 افراد جان سے گئے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ہیں، اور سیکیورٹی ادارے 2021 سے دہشت گردی کے خطرے میں مسلسل اضافے کی وارننگ دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے