انڈونیشیا کی جیل میں 10 سال سے قید پشاور کے ایکسپورٹر کے اہل خانہ کی انصاف کی فریاد

پشاور کے علاقے ورسک روڈ کے رہائشی اور انٹرنیشنل ایکسپورٹر محمد ریاض گزشتہ 10 برس سے انڈونیشیا کی جیلوں میں ناکردہ گناہ کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور قیدیوں کے تبادلے کے تحت انہیں پاکستان لایا جائے تاکہ وہ اپنے گھر والوں کے سامنے رہ سکیں۔

پریس کلب میں فریاد

پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد ریاض کی اہلیہ روزینہ بیگم نے اپنے بچوں عماد ریاض اور عبدالصمد ریاض کے ہمراہ بتایا کہ ان کے شوہر ایک کامیاب ایکسپورٹر تھے جنہیں حکومتی اور صنعتی ایوارڈز بھی ملے۔ سال 2016 میں انہوں نے انڈونیشیا میں ویئر ہاؤس قائم کیا، لیکن ایک پاکستانی ایجنٹ کی چال کے باعث وہ ایک ایسے مقدمے میں پھنس گئے جس سے ان کا کوئی تعلق نہ تھا۔

روزینہ بیگم نے کہا کہ ویئر ہاؤس میں ایک دوسرے شخص نے جنریٹروں کا کاروبار شروع کیا، مگر کچھ ہی عرصے بعد وہاں چھاپہ پڑا اور اس کے کنسائنمنٹ سے منشیات برآمد ہوئی۔ اس مقدمے میں ان کے شوہر کو بھی گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی۔

اہل خانہ کی مشکلات اور درد بھری کہانی

اہلیہ کے مطابق محمد ریاض کی سزا پوری ہو چکی ہے مگر گزشتہ 10 برسوں سے ان کا اپنے شوہر سے کوئی رابطہ نہیں۔ وہ انڈونیشیا میں پاکستانی ایمبیسی اور ملکی حکام سے کئی بار رجوع کر چکی ہیں مگر صرف تسلیاں دی جاتی ہیں، عملی اقدامات نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس جدوجہد میں ان کا گھر، بینک بیلنس اور تمام جمع پونجی ختم ہو گئی۔ کئی افراد نے ہمدردی کے نام پر دھوکے بھی دیے مگر انصاف کہیں نظر نہیں آیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ محمد ریاض کے والد فالج کے مرض میں مبتلا ہیں اور والدہ انتظار کرتے کرتے انتقال کر گئیں۔

حکومت پاکستان سے اپیل

روزینہ بیگم نے کہا کہ ان کی واحد خواہش ہے کہ محمد ریاض کو قیدیوں کے تبادلے کے تحت پاکستان منتقل کیا جائے، چاہے وہ پاکستان کی جیل ہی میں رہیں۔
“کم از کم وہ ہماری آنکھوں کے سامنے تو ہوں گے، ہمیں پتا ہوگا کہ وہ کس حال میں ہیں۔”

اہل خانہ نے مرکزی اور صوبائی حکومت سمیت اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور محمد ریاض کو انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے