خیبرپختونخوا، تعلیم خطرے میں؛ داخلے کم، نتائج مایوس کن، 1500 سکول آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا میں تعلیمی نظام خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔ ایک طرف ہزاروں پرائمری سکولوں میں بچوں کے داخلے نہ ہونے کے برابر ہیں، تو دوسری جانب میٹرک کے امتحانات میں بھی نتائج انتہائی مایوس کن آئے ہیں۔ حکومت اساتذہ کے سامنے بے بس ہوکر پہلے مرحلے میں دو سال کے دوران 15 سو سکول آؤٹ سورس کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت نے اساتذہ کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے دور دراز کے سکولوں میں تعیناتی کے بجائے انہیں نجی اداروں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے بھر میں 34 ہزار 784 سرکاری سکول قائم ہیں جن میں مجموعی طور پر 59 لاکھ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ان میں 33 لاکھ 10 ہزار لڑکے اور 26 لاکھ 30 ہزار لڑکیاں شامل ہیں۔

صوبے میں 4 ہزار 147 سکول ایسے ہیں جہاں بچوں کی انرولمنٹ 40 سے بھی کم ہے۔ ان میں 2 ہزار 313 لڑکیوں اور ایک ہزار 834 لڑکوں کے سکول شامل ہیں۔ صوبائی حکومت نے ان سکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم پہلے مرحلے میں 1 ہزار 500 سکول آؤٹ سورس کیے جائیں گے، جن میں 500 سکول ضم شدہ اضلاع اور ایک ہزار سکول بندوبستی اضلاع میں قائم ہیں۔ حکام کے مطابق آؤٹ سورس سکولوں کے لیے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ قائم کیا جائے گا اور جس فرم کو سکول حوالے کیے جائیں گے وہ ایک سال کے اندر انرولمنٹ 240 طلبہ تک بڑھانے کے پابند ہوں گے۔

سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم خالد خان نے بتایا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں ہزاروں پرائمری سکول قائم ہیں، لیکن وہاں انرولمنٹ 40 سے بھی کم ہے جبکہ ہر پرائمری سکول 240 طلبہ کے لیے بنایا گیا ہے۔ بیشتر سکول ایسے ہیں جہاں صرف ایک ہی استاد تعینات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ دور دراز سکولوں میں جانے کے لیے تیار نہیں، جو سب سے بڑا چیلنج ہے۔ دوسری طرف ان علاقوں میں نجی سکولوں کی کارکردگی سرکاری سکولوں سے بہتر ہے، اس لیے کوشش یہی ہے کہ ان سکولوں کو پرائیویٹ اساتذہ کے ذریعے چلائے جائیں۔

سیکرٹری کے مطابق پہلے مرحلے میں آؤٹ سورس ہونے والے سکولوں کا دو سال تک جائزہ لیا جائے گا، اس کے بعد دوسرے مرحلے میں مزید سکول آؤٹ سورس کرنے پر غور کیا جائے گا۔ آؤٹ سورس سکولوں میں فی طالبعلم کے حساب سے حکومت متعلقہ فرم کو ماہانہ ادائیگی کرے گی۔

ادھر تعلیمی بحران صرف داخلوں تک محدود نہیں بلکہ امتحانی نتائج میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ حالیہ میٹرک امتحانات میں 846 سکولوں کا رزلٹ 40 فیصد سے بھی کم رہا، جن میں 550 لڑکوں اور 296 لڑکیوں کے سکول شامل ہیں۔

سیکرٹری خالد خان نے بتایا کہ سرکاری سکولوں کے مایوس کن میٹرک نتائج کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں ان سکولوں میں تعلیمی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی، لیکن اگر کارکردگی بہتر نہ ہوئی تو متعلقہ اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے