سیلاب: قدرتی آفت یا انسانی غفلت؟

تحقیق و تحریر: انجینئر عبدالولی خان یوسفزئی (چیئرمین زرغون تحریک، سابق سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن، انچارج فلڈ وارننگ سیل خیبرپختونخوا)


خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں تباہ کن سیلاب کیوں آتے ہیں؟
پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا کے پہاڑی وادیوں میں حالیہ برسوں میں سیلاب کی شدت اور تسلسل میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صرف قدرتی مظاہر نہیں بلکہ انسانی غفلت، کرپشن، ماحولیاتی بے حسی اور کمزور حکومتی نظام کا نتیجہ ہیں۔


دو بڑے ماحولیاتی بحران

پاکستان کو اس وقت دو بڑے ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے:

  1. جنگلات کی تیزی سے کٹائی
  2. گلیشیئرز کا خطرناک حد تک پگھلنا

ان عوامل کے ساتھ ساتھ دریاؤں اور نالوں پر قبضہ، غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز، اور پانی کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ نے تباہ کن سیلاب کو جنم دیا ہے۔


گلیشیئرز: واٹر بینک کا زوال

پاکستان میں تقریباً 13,032 گلیشیئرز موجود ہیں جو 13,547 کلومیٹر² پر پھیلے ہوئے ہیں۔
چترال میں 1992 سے 2022 کے دوران گلیشیئرز کے رقبے میں 31% کمی دیکھی گئی۔

گلیشیئرز کے تیز پگھلاؤ کی وجہ سے نیچے کی وادیوں میں پانی کی بے قابو آمد ہوتی ہے، جو نہ صرف زرعی زمینوں کو تباہ کرتی ہے بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی باعث بنتی ہے۔


جنگلات کا خاتمہ: قدرتی بریک ختم

پاکستان میں جنگلات کا رقبہ 1990 میں 6.5% تھا، جو 2022 میں گھٹ کر 4.7% رہ گیا ہے۔
درخت زمین کو مضبوط رکھتے ہیں اور بارش کے پانی کو جذب کرنے میں مدد دیتے ہیں، مگر ان کی بے دریغ کٹائی سے مٹی کا کٹاؤ بڑھا ہے اور رن آف میں اضافہ ہوا ہے، جو سیلاب کی شدت کو بڑھا دیتا ہے۔


دریاؤں پر قبضہ اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز

دریاؤں، نالوں اور فلڈ پلینز پر قبضے اور تعمیرات نے پانی کے قدرتی راستے بند کر دیے ہیں۔ نتیجتاً جب بارش یا گلیشیئر کا پانی آتا ہے تو وہ بستیوں، سڑکوں اور فصلوں کو روندتا چلا جاتا ہے۔


اداروں کی غفلت اور مافیا کا راج

لکڑی مافیا، قبضہ گروہ، اور ہاؤسنگ مافیا متعلقہ محکموں کی ملی بھگت کے بغیر سرگرم نہیں ہو سکتے۔
جنگلات، ریونیو، پولیس اور ترقیاتی اداروں میں موجود کرپٹ عناصر اس بحران کے اصل مجرم ہیں۔


پانی ذخیرہ کرنے کی شدید ضرورت

پاکستان کی موجودہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف 30–32 دن کے پانی کے برابر ہے، جبکہ ہر سال 100–120 بلین کیوبک میٹر پانی ضائع ہو جاتا ہے۔

اگر 2050 تک چھوٹے اور بڑے ڈیمز نہ بنائے گئے تو ملک مستقل ماحولیاتی بحران کا شکار ہو جائے گا۔


فلڈ وارننگ سسٹم کی کمی

حالیہ سیلابوں میں بروقت وارننگ نہ ملنے سے بڑی تعداد میں جان و مال کا نقصان ہوا۔
اپ اسٹریم علاقوں میں ڈیجیٹل وارننگ سسٹمز، سنسرز، اور ریئل ٹائم موسمیاتی نگرانی کو فوری بنیادوں پر متعارف کرانا ہوگا۔


تاریخی شیشم درخت اور انگریز دور کی پلاننگ

برطانوی دور میں سڑکوں اور نہروں کے کنارے لگائے گئے شیشم اور پاپلر کے قطعات آج کرپشن اور مافیا کی نذر ہو چکے ہیں۔ یہ درخت کناروں کے کٹاؤ کو روکتے تھے اور ماحولیاتی توازن قائم رکھتے تھے۔


فوری ایکشن پلان

عدلیہ کے لیے:

جنگلاتی کٹائی اور دریاؤں پر قبضے کی ملک گیر انکوائری

فلڈ پلین رولز پر سخت عمل درآمد

اپ اسٹریم علاقوں میں گلیشیئر ریڈ الرٹ سسٹم

وفاقی و صوبائی حکومتیں:

ری-فاریسٹیشن مہم

چھوٹے ڈیمز اور ویٹ لینڈ کی بحالی

ڈیجیٹل نگرانی اور جیوٹیگنگ

عوام اور سول سوسائٹی:

“ایک گھر، پانچ درخت” مہم

فلڈ پلین واچ کمیٹیاں

ویڈیو شواہد اور شہری نگرانی کا نظام


اہم اعداد و شمار:

جنگلات: 1990 → 6.5% | 2022 → 4.7%

گلیشیئرز: 13,032 گلیشیئرز | 13,547 کلومیٹر²

چترال: 1992–2022 → 31% کمی

پانی کا ضیاع: سالانہ 100–120 بلین کیوبک میٹر


اختتامی نوٹ

پاکستان میں سیلاب اب محض قدرتی آفات نہیں رہے، بلکہ انسانی غفلت، کرپشن اور ناقص حکومتی منصوبہ بندی کے نتائج ہیں۔
اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ماحولیاتی تباہی، زرعی نقصان، معاشی بدحالی اور انسانی المیے ہماری آئندہ نسلوں کا مقدر بن جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے