خیبرپختونخوا حکومت نے دریائے سندھ میں برسوں سے جاری غیر قانونی گولڈ مائننگ کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے ہوئے گرینڈ آپریشن کی منظوری دیدی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد نہ صرف قیمتی وسائل کے ضیاع کو روکنا ہے بلکہ ماحولیاتی خطرات کا سدباب بھی کیا جائیگا۔یہ منظوری سیکرٹری منرل ڈویلپمنٹ کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں دی گئی، جس میں صوابی، نوشہرہ اور کوہاٹ کی ضلعی انتظامیہ کو فوری کارروائی کا ٹاسک سونپا گیا۔
منرل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخوا کے مطابق دریائے سندھ کے اے، بی، سی اور ڈی بلاکس میں طویل عرصے سے غیر قانونی گولڈ مائننگ جاری ہے، جس سے نہ صرف خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے بلکہ ماحولیاتی نظام بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔محکمے کے مطابق، عوامی شکایات پر اب تک 1298 ایف آئی آرز درج کی جا چکی ہیں، جن میں صوابی میں 167، نوشہرہ میں 430 اور کوہاٹ میں 701 مقدمات شامل ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران 8.8 ملین روپے کے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیا ہے اور دریائے سندھ میں 4.92 ارب روپے مالیت کے گولڈ مائننگ ٹھیکوں کی ریزرو قیمت غیر معمولی حد تک کم رکھنے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ نیب نے صوبائی حکومت کو ان ٹھیکوں پر نظرثانی کی بھی ہدایت کی ہے۔
منرل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں دریائے سندھ اور دریائے کابل پر 17 گولڈ مائننگ بلاکس کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں 14 بلاکس دریائے سندھ اور 3 بلاکس دریائے کابل پر واقع ہیں۔
محکمہ معدنیات اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ اس گرینڈ آپریشن کو مرحلہ وار آگے بڑھائیں گے، تاکہ نہ صرف غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ کیا جا سکے بلکہ قیمتی وسائل کی حفاظت اور قانونی طریقہ کار کے تحت سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔