پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی، دہشت گردی کا خاتمہ اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہوگی، جبکہ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی استعداد بڑھا کر دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور مربوط کارروائیاں کی جائیں گی۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے ان خیالات کا اظہار گورنر ہاؤس پشاور میں مشاورتی کونسل کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید اور مشاورتی کونسل کے ارکان نے شرکت کی۔ آئی جی پولیس نے اجلاس کو صوبے میں امن و امان کی موجودہ صورتِ حال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
گورنر نے اپنے پیغام میں کہا کہ صوبے کی غیر معمولی صورتِ حال کے پیش نظر آئین کے تحت ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی بحث یا الزام تراشی میں نہیں پڑنا چاہتے بلکہ خیبر پختونخوا کو دوبارہ امن، تحفظ، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ پولیس اہلکاروں، فوجی جوانوں، لیویز اہلکاروں، سرکاری ملازمین، علماء، اساتذہ، تاجروں اور عام شہریوں کی قربانیاں اس بات کی متقاضی ہیں کہ صوبے کو پائیدار امن فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پختون دہشت گردی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا شکار ہیں۔ ریاست کا عزم ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو دہشت گردی سے نجات دلائی جائے، ریاستی رٹ مضبوط کی جائے اور قانون کی عمل داری بحال کی جائے۔
گورنر کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنانا کافی نہیں، بلکہ ان کے سہولت کاروں، مالی معاونت کرنے والوں، بھرتی کے نیٹ ورکس، انتہا پسندانہ عناصر، غیر قانونی اسلحے، منشیات اور غیر قانونی نقل و حرکت سمیت دہشت گردی کے پورے نظام کا قانون کے مطابق خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان اور انسداد دہشت گردی کے دیگر اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کو بھی ترجیحات میں شامل قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھائی جائے گی تاکہ پولیس اہلکار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خود کو تنہا محسوس نہ کریں۔ ریاست پولیس کے ساتھ کھڑی ہے اور پولیس شہداء کے خاندانوں کو بھی تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ شورش زدہ اضلاع میں ریاستی عمل داری بہتر بنانے کے ساتھ وہاں کے عوام کو تعلیم، صحت، روزگار، سڑکوں، بجلی، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی پر بھی توجہ دی جائے گی۔ ان کے بقول، ان اضلاع کے عوام طویل عرصے سے دہشت گردی، نقل مکانی، بنیادی سہولیات کی کمی اور محرومیوں کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے انہیں ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔
گورنر نے انتظامیہ کو جوابدہ بنانے اور عوام کو بااختیار کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی اور اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس بھی اسی روز بلایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیر معمولی انتظامی اقدامات کا مقصد کسی سیاسی جماعت، فرد یا طبقے کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ ریاستی اداروں کو مؤثر بنانا، قانون کی عمل داری بحال کرنا اور عوام کو امن و سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر شہری کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے گا اور تمام ریاستی اقدامات آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو دہشت گردی کے سائے میں دفن نہیں ہونے دیا جائے گا اور خیبر پختونخوا کو امن، ترقی، روزگار کے مواقع اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
مشاورتی کونسل کے اجلاس میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر، طارق محمود پاشا، عثمان سیف اللہ خان، عامر جاوید، ڈاکٹر محمد ارشاد، کفایت اللہ خان، ڈاکٹر سید عامر عبداللہ، مولانا طیب قریشی، ڈاکٹر سرفراز علی شاہ اور آصف رفیق نے بھی شرکت کی۔