خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے امکان پر وفاقی حکومت کااہم اجلاس، آئینی تقاضے کیا ہیں؟

سی بی این 247

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کے معاملے پر وفاقی حکومت نے اہم مشاورت شروع کر دی ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ سے اس اقدام کی منظوری لینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق حتمی فیصلے اور اس کے آئینی جواز کی سرکاری تصدیق ضروری ہے۔


ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کا اجلاس کل صبح ساڑھے نو بجے طلب کیا گیا ہے، جس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔ اس معاملے پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ، کے اجلاس بھی طلب کیے گئے ہیں۔


اس سے قبل صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایوانِ صدر میں ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔


ایوانِ صدر کے اعلامیے کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر احد چیمہ سمیت دیگر حکومتی شخصیات شریک ہوئیں۔ صدرِ مملکت کی معاونت سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم نے کی۔


اجلاس میں 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے صوبے میں امن و امان اور سکیورٹی کی صورتِ حال سے متعلق بھیجی گئی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔


آئینِ پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کا طریقۂ کار


آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت صدرِ مملکت بعض غیر معمولی حالات میں ملک یا اس کے کسی حصے میں ایمرجنسی نافذ کر سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے آئین میں درج شرائط اور طریقۂ کار کی پابندی ضروری ہے۔


آرٹیکل 232 کے تحت جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی داخلی بدامنی کی صورت میں ایمرجنسی کا اعلان کیا جا سکتا ہے جس سے پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو، بشرطیکہ آئینی تقاضے پورے کیے جائیں۔ صوبے میں داخلی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی کے اعلان کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد سے متعلق آئینی شرط بھی اہم ہے؛ اگر صدر صوبائی اسمبلی کی قرارداد کے بغیر اعلان کریں تو معاملہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے اور آئین میں مقررہ مدت کے اندر منظوری حاصل کرنا لازم ہے۔


آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کا اعلان محض سیاسی فیصلے کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئینی شرائط کے مطابق ہونا چاہیے۔ اس لیے خیبر پختونخوا میں کسی ممکنہ ایمرجنسی کے معاملے میں اعلان کی بنیاد، صوبائی اسمبلی کی صورتِ حال، پارلیمانی منظوری اور آئین میں مقررہ طریقۂ کار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔


تاحال فراہم کردہ اطلاعات کی بنیاد پر ایمرجنسی کے نفاذ کو حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس حوالے سے وفاقی کابینہ، پارلیمنٹ اور متعلقہ حکام کے باضابطہ فیصلوں اور سرکاری اعلامیے کا انتظار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے