سی بی این 247
میدان، ضلع دیر سے تعلق رکھنے والے نوجوان سائنسدان اور اسلامیہ کالج پشاور کے سابق طالب علم حبیب خان کو امریکہ کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور Elsevier کی جانب سے جاری کردہ 2026 کی عالمی فہرست میں دنیا کے ٹاپ 2 فیصد سائنسدانوں میں شامل کرلیا گیا ہے۔ انہیں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نمایاں تحقیقی خدمات پر یہ اعزاز ملا۔
حبیب خان اس وقت جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ایک اے آئی کمپنی میں سینئر ریسرچ سائنٹسٹ اور اے آئی ٹیم لیڈ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ فضائی و بحری راستوں کی منصوبہ بندی اور سمندری ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے مصنوعی ذہانت پر تحقیق کر رہے ہیں، جبکہ گاچون یونیورسٹی سے بھی بطور محقق وابستہ ہیں۔
ان کے تحقیقی مقالوں کو 1900 سے زائد citations مل چکے ہیں، جبکہ ان کے سات مقالوں کو Clarivate کی جانب سے Highly Cited اور Hot Papers قرار دیا گیا۔ ڈیپ فیک کی شناخت پر تحقیق کے اعتراف میں انہیں IEEE Chester Sall Award اور 1000 امریکی ڈالر انعام بھی مل چکا ہے۔
اپنی کامیابی پر حبیب خان نے اسے اللہ تعالیٰ کا فضل قرار دیتے ہوئے اپنے والدین، اساتذہ، شریکِ مصنفین اور ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا۔