صوابی: صوابی میں حاضر سروس پولیس اہلکار کے خلاف دو بہنوں کو مبینہ طور پر اغوا کرکے حبسِ بے جا میں رکھنے، دھمکانے اور بلیک میلنگ کے لیے نازیبا ویڈیوز بنانے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔
تھانہ زیدہ میں درج ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 11 جون 2026 کو پیش آیا۔ پولیس اہلکار نصیب جان، جو اعظم آباد چوکی کا انچارج بتایا گیا ہے، پر الزام ہے کہ اس نے گھریلو ناچاقی کے باعث گھر سے نکلنے والی دو بہنوں کو کھنڈہ موڑ کے قریب مبینہ طور پر زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھایا۔
ایف آئی آر کے مطابق نصیب جان دونوں بہنوں کو شاہ منصور کے سیکٹر ڈی ون میں واقع ایک بنگلے میں لے گیا، جہاں انہیں مبینہ طور پر تقریباً ایک ماہ تک حبسِ بے جا میں رکھا گیا۔ اس دوران ان کی نازیبا ویڈیوز بنانے اور انہیں بلیک میل کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔
مقدمے کے مطابق دونوں بہنوں کو دھمکیاں دی جاتی رہیں جبکہ مبینہ طور پر ان کے فرار کو روکنے کے لیے بنگلے پر دو چوکیدار بھی تعینات کیے گئے تھے۔
ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا ہے کہ تقریباً ایک ماہ بعد دونوں بہنوں کو اسلام آباد منتقل کیا گیا، جہاں انہیں سی-18/17 کے علاقے میں رکھا گیا۔
متاثرہ لڑکی فاطمہ کے مطابق وہ 2 اکتوبر کو موقع ملنے پر وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئی اور گھر پہنچ کر اہلخانہ کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا، تاہم اس کی 20 سالہ بہن آمنہ تاحال پولیس اہلکار کے مبینہ قبضے میں ہے۔
ڈی پی او صوابی وقاص رفیق نے بتایا کہ مقدمے میں نامزد پولیس اہلکار روپوش ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق ملزم کی گرفتاری اور مبینہ طور پر مغوی لڑکی کی بازیابی کے لیے پولیس ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جبکہ مختلف مقامات پر سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن بھی جاری ہے۔
ڈی پی او کا کہنا ہے کہ نامزد پولیس اہلکار کو جلد گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ مقدمے میں عائد الزامات کی حتمی تصدیق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گی
صوابی میں پولیس اہلکار پر دو بہنوں کے اغوا اور بلیک میلنگ کا الزام، مقدمہ درج