غربت، بے روزگاری اور نوجوان آبادی: دو ماہ میں 66 ہزار سے زائد پاکستانی روزگار کے لیے بیرونِ ملک روانہ

ریاض حسین

پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت، محدود روزگار کے مواقع اور معاشی مشکلات کے باعث پاکستانیوں کا بیرونِ ملک روزگار کی تلاش میں جانے کا رجحان برقرار ہے۔


صرف جولائی اور اگست 2026 کے دوران 66 ہزار 815 پاکستانی روزگار کے لیے بیرونِ ملک گئے، جبکہ ملک میں نوجوانوں کی ایک بڑی آبادی روزگار اور معاشی مواقع کی منتظر ہے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی 2026 میں 39 ہزار 159 جبکہ اگست میں 27 ہزار 656 پاکستانی روزگار کے لیے بیرونِ ملک روانہ ہوئے۔

یوں دو ماہ کے دوران بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کی مجموعی تعداد 66 ہزار 815 رہی۔ اگست میں جولائی کے مقابلے میں بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والوں کی تعداد 11 ہزار 503 کم رہی۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب پاکستان کو غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور معاشی مواقع کی کمی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

پاکستان میں غربت کی صورتحال

ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح طویل مدت میں نمایاں طور پر کم ہوئی تھی۔ 2001-02 میں قومی غربت کی شرح 64.3 فیصد تھی جو 2018-19 میں 21.9 فیصد تک کم ہوگئی۔

تاہم 2020 کے بعد ملک میں معاشی مشکلات، کووڈ-19 کے اثرات، بلند افراطِ زر، قدرتی آفات اور آمدنی میں کمی کے باعث غربت میں دوبارہ اضافہ ہوا۔

ورلڈ بینک کے Poverty and Inequality Platform کے مطابق 2024 میں پاکستان کی 22.96 فیصد آبادی روزانہ 3 ڈالر سے کم آمدنی کے عالمی غربت کے معیار کے تحت زندگی گزار رہی تھی۔

اسی عرصے میں پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ 12 لاکھ تھی۔

3.65 ڈالر روزانہ کے معیار پر غربت 40.5 فیصد

ورلڈ بینک کی Poverty & Equity Brief کے مطابق 2024 میں 3.65 ڈالر یومیہ کے معیار پر پاکستان میں غربت کی شرح 40.5 فیصد تھی۔

رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران تقریباً 26 لاکھ مزید افراد غربت کی سطح سے نیچے چلے گئے، جبکہ دیہی علاقوں میں غربت کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی۔

پاکستان کی نوجوان آبادی کتنی ہے؟

پاکستان کی بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کا اہم موقع بھی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے UNFPA کے مطابق پاکستان کی تقریباً 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے، جبکہ ملک کی اوسط عمر تقریباً 20 سال ہے۔

UNFPA کے مطابق 10 سے 24 سال عمر کے نوجوان پاکستان کی مجموعی آبادی کا تقریباً ایک تہائی ہیں۔

2026 میں تقریباً 25 کروڑ 72 لاکھ آبادی کے تخمینے کو سامنے رکھا جائے تو 10 سے 24 سال عمر کے نوجوانوں کی تعداد تقریباً 8 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بنتی ہے۔

یہ بڑی نوجوان آبادی پاکستان کے لیے ممکنہ طور پر ایک بڑا ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ ثابت ہوسکتی ہے، لیکن اس کے لیے تعلیم، فنی تربیت، ہنرمندی، روزگار، کاروباری مواقع اور خواتین کی معاشی شمولیت ضروری ہے۔

نوجوانوں کے لیے روزگار بڑا چیلنج

ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں 85 فیصد سے زیادہ ملازمتیں غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہیں، جبکہ خواتین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد لیبر فورس سے باہر ہے۔

بینک کے مطابق اگر پاکستان اپنی بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی کے لیے مناسب روزگار اور پیداواری معاشی مواقع پیدا نہیں کرتا تو ملک اس بڑی آبادی سے حاصل ہونے والے ممکنہ معاشی فوائد سے محروم ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق نوجوانوں کے لیے صرف ملازمتیں پیدا کرنا ہی کافی نہیں بلکہ ایسی ملازمتیں ضروری ہیں جو باقاعدہ، پیداواری اور مناسب آمدنی فراہم کریں۔

بلاسود قرضے اور خود روزگاری

حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے نوجوانوں اور کم آمدنی والے افراد کو خود روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بلاسود قرضوں کے پروگرام بھی جاری ہیں۔

پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے مطابق اگست 2026 میں 5 ہزار 169 بلاسود قرضے جاری کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 38 کروڑ 10 لاکھ روپے رہی۔

اعدادوشمار کے مطابق 2019 سے اب تک بلاسود قرضوں کی مجموعی مالیت 127 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔

ان قرضوں کا مقصد چھوٹے کاروبار، خود روزگاری اور کم آمدنی والے خاندانوں کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنا ہے۔

بیرونِ ملک روزگار یا ملک میں مواقع؟

پاکستانی نوجوانوں کی بڑی تعداد کے لیے بیرونِ ملک روزگار ایک اہم ذریعہ آمدن بن چکا ہے۔ بیرونِ ملک جانے والے کارکن نہ صرف اپنے خاندانوں کی مالی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ ترسیلاتِ زر کے ذریعے ملکی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

تاہم مسلسل بڑھتی ہوئی بیرونِ ملک ہجرت یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ کیا پاکستان اپنی نوجوان آبادی کے لیے ملک کے اندر کافی اور بہتر روزگار کے مواقع پیدا کر پا رہا ہے؟

پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ نوجوانوں کو صرف روزگار کے لیے بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہونے کے بجائے ملک کے اندر بھی پیداواری صنعت، ہنرمندی، ٹیکنالوجی، کاروبار، زراعت اور خدمات کے شعبوں میں وسیع مواقع فراہم کیے جائیں۔

اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق ہنر اور پائیدار روزگار میسر آ جائے تو پاکستان کی نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے ایک مضبوط ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ بن سکتی ہے۔

اس کے برعکس اگر نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو روزگار، تعلیم اور معاشی مواقع فراہم نہ کیے گئے تو غربت، بے روزگاری اور بیرونِ ملک روزگار کی جانب ہجرت کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے