اسلام آباد: پاکستان میں افغانستان کے سفیر سردار احمد شکیب نے پاک افغان سیکیورٹی اختلافات کے حل کے لیے براہِ راست مذاکرات پر زور دیتے ہوئے فوجی کارروائی اور تجارت و ٹرانزٹ کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کر دی۔
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے افغان سفیر نے پاکستان کے ان سیکیورٹی خدشات کو تسلیم کیا جو افغان سرزمین سے مبینہ عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں سے متعلق ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کابل چاہتا ہے کہ اسلام آباد مخصوص شواہد اور معلومات فراہم کرے تاکہ متعلقہ افراد، نیٹ ورکس اور واقعات کی واضح نشاندہی کی جا سکے۔
سردار احمد شکیب نے کہا کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینا چاہتا ، تاہم پاکستان کے سیکیورٹی خدشات افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کا جواز نہیں بن سکتے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان بھی اپنے سیکیورٹی خدشات پر پاکستان کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے لیے تیار ہے۔
افغان سفیر کے مطابق دونوں ممالک جغرافیہ، تجارت، ٹرانزٹ اور عوامی روابط کے باعث ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں، اس لیے دونوں کے سیکیورٹی اور اقتصادی مفادات بھی باہم منسلک ہیں۔
انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ افغانستان کے بارے میں پرانے تصورات سے آگے بڑھتے ہوئے 2021 کے بعد کابل میں پیدا ہونے والی نئی سیاسی صورتحال کو تسلیم کیا جائے۔
سردار احمد شکیب نے تجارت اور ٹرانزٹ کی پابندیوں کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے افغان شہریوں کو اجتماعی سزا دینے سے گریز پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اپنی جغرافیائی حقیقت تبدیل نہیں کر سکتے اور انہیں بالآخر ہمسایوں کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہے۔ ان کے بقول اصل سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک اچھے ہمسایوں کی حیثیت سے کیسے رہ سکتے ہیں۔
افغان سفیر نے واضح کیا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ آزاد ریاست کی حیثیت سے ایسے تعلقات کا خواہاں ہے جو کمزوری، انحصار یا محاذ آرائی کے بجائے باہمی احترام اور برابری پر مبنی ہوں۔