بیرون ملک بھیجنے کا جھانسہ، کروڑوں روپے کا کھیل بے نقاب

سی بی این رپورٹ

ضلع مردان کے علاقے پار ہوتی میں ایک بڑے مبینہ ویزا فراڈ اسکینڈل کا انکشاف ہوا ہے، جہاں مقامی شہریوں کی بڑی تعداد نے ایک ایجنٹ پر کروڑوں روپے ہتھیانے کا الزام عائد کر دیا ہے۔

متاثرین کے مطابق جعلی کینیڈین امیگریشن اسکیم کے نام پر درجنوں نوجوانوں کو بیرون ملک بھیجنے کے خواب دکھا کر بھاری رقوم وصول کی گئیں۔

مردان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے متاثرہ افراد نے بتایا کہ پار ہوتی کے رہائشی سلیم ولد صاحب گل نے خود کو امیگریشن ماہر ظاہر کرتے ہوئے شہریوں کو کینیڈا بھجوانے کا جھانسہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے مبینہ طور پر جعلی کینیڈین ویزے اور دستاویزات فراہم کیں اور ایک جعلی ای میل اکاؤنٹ کے ذریعے خود کو کینیڈین سفارتخانے سے منسلک ظاہر کرتا رہا۔

متاثرین کے مطابق ملزم خاص طور پر بیرون ملک روزگار کے خواہشمند نوجوانوں کو نشانہ بناتا تھا اور انہیں فوری ویزا، ملازمت اور مستقل رہائش کے جھوٹے وعدے کرتا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف مردان کے کم از کم 50 افراد اس دھوکہ دہی کا براہ راست شکار ہوئے، جبکہ متاثرین کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

شکایت کنندگان کا کہنا تھا کہ اس مبینہ فراڈ کے ذریعے کروڑوں روپے بٹورے گئے، اور اندازہ ہے کہ صرف مردان کے شہریوں سے وصول کی گئی رقم 25 کروڑ روپے سے بھی تجاوز کر گئی۔ ایک متاثرہ شخص نے بتایا کہ بہتر مستقبل کی امید میں کئی افراد نے اپنے گھر، جائیدادیں اور زرعی زمینیں تک فروخت کر دیں، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ انہیں جعلی دستاویزات تھمائی گئی ہیں۔

متاثرین نے بتایا کہ انہوں نے معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے نوٹس میں لایا، جس پر ایف آئی اے مردان نے ملزم کو نوٹسز جاری کیے، تاہم وہ تاحال گرفتار نہیں ہو سکا اور روپوش ہے۔ اس کے علاوہ مقامی پولیس کو بھی تحریری شکایات جمع کرائی گئی ہیں۔

متاثرین نے مزید الزام لگایا کہ ملزم کے قریبی رشتہ دار بھی اس مبینہ فراڈ میں شریک تھے اور رقوم کی وصولی میں کردار ادا کرتے رہے۔ ان کے مطابق ملزم پار ہوتی میں ایک لینگویج سینٹر اور کنسلٹنسی ایجنسی بھی چلاتا تھا، جسے بظاہر تعلیم اور ملازمت کے نام پر استعمال کیا جاتا تھا مگر درحقیقت یہ مبینہ دھوکہ دہی کا حصہ تھا۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر متاثرین نے وفاقی وزیر داخلہ، صوبائی حکومت، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزم اور اس کے سہولت کاروں کو گرفتار کرکے لوٹی گئی رقم واپس دلائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے امیگریشن اور کنسلٹنسی ایجنسیوں کی سخت نگرانی کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے