تحریر: بن یامین
پاکستان میں مہنگائی پہلے ہی عوام کی زندگی کو مشکل بنا چکی ہے، لیکن حالیہ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے نے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کو اس اضافے کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں بڑا حصہ حکومتی ٹیکسوں اور پٹرولیم لیوی کا ہوتا ہے۔
پاکستان اپنی ضرورت کا تقریباً 80 سے 85 فیصد خام تیل بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے، جس کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کے مطابق ایک لیٹر پٹرول کی بنیادی لاگت تقریباً 140 سے 150 روپے بنتی ہے۔ اس کے علاوہ فریٹ، انشورنس اور درآمدی اخراجات شامل کیے جاتے ہیں جو تقریباً 10 سے 15 روپے تک ہوتے ہیں۔
اس کے بعد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پٹرول پمپ ڈیلرز کا منافع شامل کیا جاتا ہے، جو مجموعی طور پر تقریباً 15 سے 17 روپے بنتا ہے۔ تاہم قیمت میں سب سے بڑا اضافہ حکومتی ٹیکسوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ موجودہ نظام کے تحت حکومت ایک لیٹر پٹرول پر تقریباً 60 روپے تک پٹرولیم لیوی وصول کرتی ہے، جبکہ دیگر چارجز بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔
یوں ایک ایسا ایندھن جس کی اصل قیمت تقریباً ڈیڑھ سو روپے بنتی ہے، عوام کو تین سو روپے سے زیادہ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ تازہ اضافے کے بعد پاکستان میں پٹرول کی قیمت تقریباً 321 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق پٹرول کی قیمت میں اضافے کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس سے آٹا، چینی، سبزیاں، پھل اور دیگر اشیائے ضروریہ بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے مہنگائی کی ایک نئی لہر پیدا ہوتی ہے جس کا براہ راست اثر عام شہری کی جیب پر پڑتا ہے۔
اگر خطے کے دیگر ممالک سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان میں پٹرول کی قیمت نسبتاً زیادہ نظر آتی ہے۔ افغانستان میں پٹرول تقریباً 210 سے 240 روپے فی لیٹر کے درمیان فروخت ہو رہا ہے، جبکہ بنگلہ دیش میں اس کی قیمت تقریباً 280 سے 290 روپے ہے۔ بھارت میں پٹرول کی قیمت تقریباً 300 سے 320 روپے فی لیٹر کے درمیان ہے۔
افغانستان میں پٹرول نسبتاً سستا ہونے کی بڑی وجہ کم ٹیکس اور ایران و وسطی ایشیا سے نسبتاً سستی درآمدات ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں حکومتی ٹیکس اور لیوی قیمت کو نمایاں طور پر بڑھا دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت صرف پٹرولیم لیوی میں کمی کر دے تو پٹرول کی قیمت میں فوری طور پر 40 سے 70 روپے فی لیٹر تک کمی ممکن ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف عوام کو براہ راست ریلیف مل سکتا ہے بلکہ مہنگائی کے دباؤ میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اگر روزانہ تقریباً دو سے ڈھائی کروڑ لیٹر پٹرول فروخت ہو تو حکومت کو صرف پٹرولیم لیوی کی مد میں روزانہ 120 سے 150 کروڑ روپے تک آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں ضروری ہے کہ حکومت پٹرولیم پالیسی پر نظرثانی کرے اور ایسے اقدامات کرے جن سے عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ بصورت دیگر مہنگائی کا بوجھ بدستور عام آدمی کے کندھوں پر ہی پڑتا رہے گا۔