بلوچستان میں بیک وقت متعدد حملے، کوئٹہ میں دو پولیس اہلکار جاں بحق، پسنی میں خاتون خودکش حملہ آور سمیت پانچ ہلاک


بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ہفتے کی صبح قریباً ایک ہی وقت میں فائرنگ، دھماکوں، مسلح حملوں اور خودکش کارروائیوں پر مشتمل واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں پولیس، سکیورٹی فورسز کی تنصیبات اور سرکاری دفاتر کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے بعد صوبے بھر میں سکیورٹی الرٹ کر دیا گیا۔
کوئٹہ میں امداد چوک، سریاب روڈ اور ویسٹرن بائی پاس کے علاقوں میں دھماکوں اور شدید فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ حکام کے مطابق سریاب روڈ پر ایک پولیس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جو حملے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔ فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ اس واقعے میں دو پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے، بعد ازاں آگ پر قابو پا لیا گیا۔
اسی طرح نوشکی، دالبندین، قلات، مستونگ، گوادر اور پسنی سے بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ متعدد مقامات پر سکیورٹی تنصیبات اور انتظامی عمارتوں کے قریب طویل فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
حکام کے مطابق مختلف قومی شاہراہوں، جن میں ایم-8، این-10، این-25، این-40، این-65 اور این-70 شامل ہیں، پر ٹریفک کی روانی متاثر کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ خاران اور دھادر میں سرکاری اور سکیورٹی مراکز کے قریب شدید فائرنگ اور دھماکوں کے باعث شہریوں نے گھروں میں رہنے کو ترجیح دی۔
ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ بظاہر حملے ہم وقت نظر آتے ہیں تاہم صورتحال قابو میں ہے اور سکیورٹی فورسز تمام مقامات پر مؤثر کارروائی کر رہی ہیں۔
ابتدائی اطلاعات اور زمینی صورتحال
ابتدائی رپورٹس کے مطابق مختلف مسلح گروہوں نے صوبے کے کئی اضلاع میں منظم انداز میں حملے کیے۔ قلات میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر اور پولیس لائنز کو نشانہ بنایا گیا جہاں طویل فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ضلع کچھی کے علاقے دھادر میں مسلح افراد کے قصبے میں داخل ہو کر سکیورٹی کیمپ اور تھانے پر حملے اور سڑکوں کی بندش کی اطلاعات ملیں۔
ساحلی علاقوں گوادر اور پسنی میں بھی سکیورٹی چیک پوسٹس کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ خاران میں ریڈ زون کے قریب دھماکوں اور راکٹ فائر کی اطلاعات سامنے آئیں۔ کئی مقامات پر نقصانات اور جانی نقصان کی حتمی تفصیلات کی تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
سکیورٹی فورسز کا مؤقف
سکیورٹی حکام کے مطابق ان واقعات کو منظم عسکریت پسند حملے قرار دیا گیا ہے اور تمام متاثرہ علاقوں میں فوری جوابی کارروائیاں کی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں سریاب روڈ پر پولیس گاڑی پر حملہ کرنے والے مسلح افراد کو جوابی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا، جس میں چار حملہ آور ہلاک ہوئے۔
نوشکی میں فرنٹیئر کور کے ہیڈکوارٹر پر فائرنگ کے حملے کو ناکام بنا دیا گیا، جبکہ دالبندین میں ایک خودکش حملے کی کوشش کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر کارروائی کی گئی۔ قلات میں بھی ڈپٹی کمشنر کے دفتر اور پولیس لائنز پر حملہ آوروں کو مؤثر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور کلیئرنس آپریشن جاری رہا۔
پسنی میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی تنصیب پر دور سے فائرنگ کی گئی جسے ناکام بنایا گیا۔ پسنی میں ایک واقعے میں خاتون خودکش حملہ آور سمیت پانچ افراد کے مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ گوادر میں مزدوروں کی ایک کالونی کے قریب حملے پر پولیس اور سکیورٹی فورسز نے فوری ردِعمل دیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلیچہ، تمپ اور مستونگ میں بھی چیک پوسٹس پر دستی بموں اور دور سے فائرنگ کے حملے کیے گئے، تاہم تمام حملے پسپا کر دیے گئے۔ مجموعی طور پر صورتحال قابو میں بتائی جا رہی ہے جبکہ دو سے تین سکیورٹی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دریں اثنا، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں نوشکی کے ڈپٹی کمشنر محمد حسین کو متعارف کراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کی سرکاری سطح پر تصدیق یا تردید تاحال نہیں ہو سکی۔ حکام کے مطابق تمام واقعات کی تحقیقات جاری ہیں اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے