مبینہ طبی غفلت کیسز میں براہِ راست ایف آئی آر عدالتی احکامات کے خلاف ہے، وائی ڈی اے مردان

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) مردان ڈویژن نے مبینہ طبی غفلت کے معاملات میں ڈاکٹروں کے خلاف براہِ راست ایف آئی آر کے اندراج اور پولیس تفتیش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ ایسے کیسز کے بارے میں واضح رہنمائی دے چکی ہے کہ فوجداری کارروائی سے قبل متعلقہ فورم کے ذریعے چھان بین اور ماہرین کی رائے ضروری ہے .

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن مردان ڈویژن کے صدر ڈاکٹر سراج الاسلام نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں واضح ہدایات دی ہیں کہ مبینہ طبی غفلت کے معاملات میں ڈاکٹروں کے خلاف براہِ راست ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی اور نہ ہی مقامی تھانے کا کوئی تفتیشی افسر ایسے کیسز کی تحقیقات کرے گا۔

انہوں نے 17 ستمبر 2025 کے فیصلے لیڈی ڈاکٹر نرگس بنام ریاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ جب تک شکایت خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن میں دائر نہ ہو اور کمیشن ماہرین کی تحقیق کے بعد فوجداری کارروائی کی سفارش نہ کرے، پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر سکتی۔

ڈاکٹر سراج الاسلام نے کہا کہ ان واضح عدالتی احکامات کے باوجود اگر کوئی ایس ایچ او ہیلتھ کیئر کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ کے بغیر ایف آئی آر درج کرتا ہے تو یہ توہینِ عدالت کے زمرے میں آئے گا، اور ایسے ایس ایچ اوز کے خلاف وائی ڈی اے کے پلیٹ فارم سے کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی سلسلے میں وائی ڈی اے مردان نے انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا کو باقاعدہ خط لکھ کر پشاور ہائی کورٹ کے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے